کہا تھا کہ ایسے محسن اور آقا نے جو ہمیں آرام پر آرام دیتا رہا ۔ اگرایک اپنی مرضٰی بھی کی تو بڑی خوشی کی بات ہے ۔ فرمایا :۔ ہم نے تو اپنی اولاد وغیرہ کا پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ یہ سب خدا تعالیٰ کا مال ہے اور ہمارا اس میں کچھ تعلق نہیں اور ہم بھی خدا تعالیٰ کا مال ہیں جہنوں نے پہلے ہی سے فیصلہ کیا ہوتا ہے ان کو غم نہیں ہوا کرتا ۔ مومن ضا ئع نہیں کیا جاتا ۔ فرمایا :َ۔ میں تو کبھی نہیں مان سکتا کہ جو شخص دل سے خدا تعالیٰ کی طرف قدم رکھے وہ ضائع ہو ۔ مومن آدمی کبھی ضائع نہیں کیا جاتا ۔اس کو دین بھی ملتا ہے اور دنیامیں بھی عزت ملتی ہے اور مال بھی ۔ انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں مثالی نمونہ فرمایا :۔ آنحضرت ﷺ نے ایک دفعہ اپنے گھرمیں آکر پوچھا کہ ہمارے گھر میں کیا ہے ؟ عائشہ ؓ نے دو اشرفیاں نکال کر دیں اور کہا کہ یہی ہیں ۔آنحضرت ﷺ نے ہتھیلی پر رکھ لیں اور کہا کہ کیا حال ہے اس نبی کا جو پیچھے دو اشرفیاں چھوڑ جائے ۔اور پھر اسی وقت تقسیم کر دیں۔ فرمایا : ۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے اگر ہمارے پاس کبھی کچھ ہو تو دوسرے دن سب خرچ ہو جاتا ہے جوکچھ ہوتا ہے جماعت کا ہوتا ہے اور وہ بھی لنگر خانہ میں خرچ ہو جاتا ہے ۔بعض اوقات کچھ بھی نہیں رہتا اور ہمیں غم پیدا ہو تا ہے تب خدا تعالیٰ کہیں سے بھیج دیتا ہ ۔ اکثر لوگ خدا تعالیٰ کی پوری پوری قدر نہیں سمجھتے ۔وَمَا قَدرُواللّٰہ حَقَّ قَدرِ ہِ ( الانعام : ۹۲) خد ا تعالیٰ تو فرماتا ہے وَفی السَّمآ ئِ رزقُکم وَمَا تُوعدُونَ ( الذٰریات : ۲۳) اس زمانہ کے فلسفی تو ایسی باتیں کرنے والے کو نادان بے وقوف اور پاگل کہتے ہیں ۔مگر ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر روں کے مجرب اور آزمودہ فلسفہ کو ہم رد کس طرح کر سکتے ہیں ۔ چونکہ خدا پر پورا ایمان نہیں ہوتا اس لئے اس کی راہ میں مال خرچ کرنے سے بھی دریغ کرتے ہیں ۔ مگر ہمارے خیال میں مال تو پھر مال ہے اس راہ میں تو جانیں بھی قربان کر دینی چاہئیں ۱؎