موت کو یاد رکھو اور خدا تعالیٰ کو مت بھولو پھر موت کو اعتبار نہیں کہ کب آجاوے اس لئے انسان کو نڈر نہیں ہونا چاہئیے اور سفلی دنیا کی خاطر دین سے غفلت نہیں کرنا چاہئے ؎ مکن تکیہ بر عمر باپائیدار ۔مباش ایمن از بازی روزگا ر وہ موت تا ریکی کی موت ہے جو انسان اپنے دنیاوی دھندوں میں مصروف ہوتا ہے اور موت اُوپر سے آدباقی ہے ۔ حافظ نے ایسے موقعہ پر ایک شعر کہا ہے ؎ چوروز مرگ نہ پیداست بارے آںاولیٰ کہ روز واقعہ پیش نگار خود باشد یعنی موت کا دن تو مخفی ہوتا ہے ۔ بہتر یہی ہے کہ مرنے کے دن میرا محبوب اور میرا معشوق میرے پاس ہو ۔موت جب آتی ہے تو ناگہانی طور پر آجاتی ہے ۔ انسان کہیں اور تدبیروں اور دھندوں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے کہ یہ کام اس طرح ہو جاوے یہ ایسے ہو جاوے اور اُوپر سے مو ت آجاتی ہے اور پھر لَا یَستَاخِرُونَ سَاعۃََوَّ لَا یَستَقدِمُونَ ( الاعراف : ۳۵) والا معاملہ ہوتا ہے ۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ملازمت تجارت ‘زمینداری اور دوسرے وجود معاش کو انسان دیوے بلکہ چاہئیے کہ عملی طور پر اس تعلق کا بھی ثابت کر کے دکھاوے جو خد تعالی کے سا تھ رکھنے کا اقرار کرتا ہے ۔جتنی جانفشانیاں اور جدوجہد دنیا کے لئے کرتا ہے دوسری طرف دین کے لیے بھی تو کر کے دکھاوے ۔ورنہ زبانی دعوے تو خواہ آسمان تک پہنچ جاویں جب تک عملی طور پر کر کے نہ دکھاؤ گے کچھ نہیں بنے گا مومن آدمی کا سب ہم وغم خدا تعالیٰ کے واسطے ہوتا ہے دنیا کے لئے نہیں ہوتا اور وہ دنیاوی کاموں کو کچھ خوشی سے نہیں کرتا بلکہ اُداس سا رہتا ہے اور یہی نجات حیات کا طریق ہے اور وہ جو دنیا کے پھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے ہم وغم سب دنیا ہی کے لئے ہوتے ہیں ان کی نسبت تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ فََلاَ نُقیمُ لَھُم یَومَ القِیاَمَۃِ وَزنًا ( الکھفَ : ۱۰۶) ہم قیامت کو ان کا ذرہ بھر بھی قدر نہیں کریں گے ۔ حضرت اماں جان کا عظیم نمونہ فرمایا : مبارک احمد کی وفات پر میری بیوی نے یہ بھی کہا ہے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کو میں نے اپنے ارادوں پر قبول کر لیا ہے ۔ اور یہ اس الہام کے مطابق ہے کہ ’’ میں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے ۔ ‘‘ فرمایا :۔ پچیس برس شادی کو ہوئے اس عرصہ میں انہوں نے کوئی واقعہ ایسا نہیں دیکھا جیسا اب دیکھا میں نے انہیں