مگر یکجائی طور پر نظر کرنے سے ایک دشمن بھی مان جائے گا کہ یہ جو کچھ ہو ہے خدائی وعدوں کے مطابق ہوا ہے اور پھر یہ الہام بھی ہو ا تھا ‘‘ انِی مَعَ اللّٰہِ فی کُلِّ حَا لٌ ‘‘ اب بتلاؤ ایسی صاف بات سے انکار کس طرح ہو سکتا ہے ۔
ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے۔
اصل میں ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے ۔اگر انسان عمدہ عمدہ کھاتے گوشت پلاؤ اور طرح طرح کے آرام اور راحت میں زندگی بسر کر کے خدا تعالیٰ کو ملنے کو خواہش کرے تو یہ محال ہے ۔ بڑے بڑے زخموں اور سخت سے سخت ابتلاؤں کے بغیر انسان خدا تعالی کو مل ہی نہیں سکتا ۔ خدا تعالیٰ فرما تا ہے اَحَسبَ الناَسُ آن یُّترَکُوآن یَّقُولُو اٰمَنَّا وَھُم لا یُفتَنُونَ ( العنکبوت:۳) َغرض بغیر امتحان کے تو بات بنتی ہی نہیں اور پھر امتحان بھی ایسا جو کہ کمر کو توڑنے والا ہو ۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا سب سے بڑھ کر مشکل امتحان ہوا تھا جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ووَضَعنَا عَنکَ وِزرَک اَّلذی آنقُضَ ظھرَکَ ( الم نشرح :۳۔۴) َ جب سخت ابتلاء آئیں اورانسان خد اکے لئے صبر کرے تو پھر وہ ابتلاء فرشتوں سے جا ملاتے ہیں ۔انبیاء اسی واسطے زیادہ محبوب ہوتے ہیں کہ ان پر بڑ ے بڑے سخت ابتلاء آتے ہیں اور وہ خود ہی ان کو خدا تعالیٰ سے جاملا تے ہیں ۔امام حسین پر بھی ابتلاء آئے اور سب صحابہ کے ساتھ یہی معاملہ ہوا کہ وہ سخت سے سخت امتحان میں ڈالے گئے ۔ گوشت اور پلاؤ کھانے سے آرام سے بیٹھ کر تسبیح پھیرتے رہنے سے خدا تعالی کا ملنا محاہے ۔صحابہ ؓ کی تسبیح تو تلوار تھی اگر آجکل کے لو گوں کو کسی جگہ اشاعت اسلام کے واسطے باہر بھیجا جا وے تو دس دن کے بعد تو ضرور کہہ دیں گے کہ ہمارا گھر خالی پڑا ہے ۔صحابہ ؓ کے زمانہ پر اگر غور کیا جاوے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ابتداء سے فیصلہ کر لیا ہوا تھا کہ اگر خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینی پڑ جائے تو شہید ہو جاتے تھے اور کچھ واپس آجاتے تھے اور وہ شہید ہو جاتے تھے اُن کے اقرباء پھر اُن سے خوش ہوتے تھے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دی اور جو بچ آتے وہ اس انتظار میں رہتے تھے اور شاکی رہتے کہ شاید ہم میں کوئی کمی نہ رہ گئی ہو جو ہم جنگ میں شہید نہیں ہوئے اور وہ اپنے ارادوں کو مضبوط رکھتے تھے اور خدا تعالیٰ کے لیے جان دینے کے تیا ر رہتے تھے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۔ منَ المُئومنینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا م۔ا ھَدُو اللّٰہَ عَلَیہ فَمِنھُم مَّن قَضٰی نَحبَہُ وَمنھُم مَّن یّنتَظِرُ وَمَا بَدَّ لُو اتبدِیلاً ( الاحزاب ۲۴ )
سب سے زیادہ تقوی پر قدم مارنے والی استقامت اور رضا کے نمونے دکھانے والی تو ہماری جماعت ہی ہے مگرا ن میں سے بھی ابی بہت ایسے ہیں جو دنیا کے کیڑے ہیں اور ایسے موقعہ پر ایک شعر سنا دیتا ہون کہ ؎
ہم خدا خواہی وہم دنیا ئے دوں
ایں خیال است ومحال است وجنوں