میں تقویٰ اور دیانت کا نام ونشان بھی نہیں رہا او ر جھوٹ تو ایسے مزے سے بولتے ہیں کہ گویا وہ گناہ ہی نہیں آنحضرت ﷺ کی شفقت فرمایا :۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے زمانہ میں ایک لڑکے کا باپ جنگ میں شہید ہو گیا ۔ جب لڑائی سے واپس آئے تو اس لڑکے نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا میرا باپ کہاں ہے ؟ تو آنحضرت ﷺ نے اس لڑکے کو گود میں اُٹھا لیا اور کہا کہ میں تیرا باپ ہوں ۔ صحابیات کا مثالی ایمان ایک عورت کا حال بیان کرتے ہیں کہ اس کا خاوند اور بیٹا اور بھائی جنگ میں شہید ہوئے ۔ جب لوگ جنگ سے واپس آئے تو انہوں نے اس عورت کو کہا تیرا خاوند اور بیٹا اور بھائی تو لڑائی میں ما رے گئے ہیں اور اس عورت نے جواب دیا کہ مجھے صرف اتنا بتا دو کہ پیغمبر خدا ﷺ تو صحیح سلامت زندہ بچ گئے ہیں یا نہیں ؟تعجب ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی عورتوں کا بھی کتنا بڑا ایمان تھا ۔ حضرت اُم المومنین کا اعلی ٰ ایمان فرمایا : ۔ کل والاالہام کہ ’’ خدا خوش ہو گیا ۔ ہم نے اپنی بیوی کو سنایا تو اس نے سن کر کہا مجھے اس الہام سے اتنی خوشی ہوئی کہ اگر دوہزار مبارک احمد بھی مر جاتا تو میں پروانہ کرتی ۔ فرمایا :۔ یہ اس الہام کی بناء پر ہے کہ ’’ میں خدا کی تقدیر پر اضی ہوں ۔ اور پھر چار دفعہ یہ الہام بھی ہوا تھا ۔انَّمَا یُریدُ اللّٰہُ لِیُذُھِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ اَھلَ البیتِ وَیُھّرَکُم تَطَھِیراً ۔اور پھر ہے تو بھاری امتحان مگر خدائی امتحان کو قبول کر ‘‘۔ اور پھر لائف آف پین ‘یعنی تلخ زندگی ۔ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کی وفات خدائی وعدوں کے مطابق ہے فرمایا : اگر یکجائی نظر سے دیکھا جائے تو ایک انسان بھی انکار نہیں کر سکتا اور پھر پیدا ہوتے ہی الہام ہوا تھا انِیِّ آسقُطُ منَ اللّٰہِ وَاُمیبہ‘ میرے دل میں خدا تعالیٰ نے اسی وقت ڈال دیا تھا ۔تبھی تو میں نے لکھ دیا تھا یا یہ لڑکا نیک ہو گا اور رو بخدا ہوگا اور خدا تعالیٰ کی طرف اس کی حرکت ہوگی اور یہ یہ جلد فوت ہو جائے گا ۔کوئی بد معاش اور راستی کا دشمن ہو تو اور بات ہے