ہلاک ہو جاؤں گا اس کا جواب اللہ تعالی دیتا ہے کہ انی حَافظُ کُلَّ من فی الدَّار ۔یہ ہماری طرف سے تو بالکل خا موشی تھی مگر خدا تو سمیع علیم ہے ۔ حضور کے خلاف پیشگوئی کی حقیقت پیشگوئی میں جو لکھا ہے کہ میں ہلاک ہو جاؤں گا اور میری جماعت پاش پاش ہو جاویگی خدا تعالیٰ اس کا جواب دیتا ہے کہ ہر ایک کی جو تیرے گھر میں ہوگا حفاظت کروں گا ۔ ہمیں تو شک پڑتا ہے کہ کرامت علی بھی کہیں فرضی نام نہ ورنہ مسلمان ہو کر اسلام پر ہنسی ٹھٹھا کرنا کچھ تعجب ہو آتا ہے ۔ ہم یہ بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ جو پیشگوئی کی گئی ہے آیا کسی الہام کی بناء پر کی گئی ہے یا فرضی طور پر ہنسی ٹھٹھے سے کام لیا گیا ہے ۔اگر خدا تعالیٰ نے بتلائی ہے تو پھر اس وحی اور الہام کو بھی شائع کیا جاوے ورنہ یوں تو یہاں اچھڑ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ میں طاعون سے نہیں مروں گا ۔اپنے ارادوں ۲؎پر تو ہر ایک نے مرنا ہی ہے ۔ ایسے فضول دعووں پر ہم توجہ نہیں کیا کرتے ۔چاہئیے کہ ہمارے مقابلہ میں یہ شائع کیا جاوے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا ہے کہ تا کہ خدا تعالیٰ کو بھی غیرت آوے ۔خدا تعالیٰ کو تو غیرت بھی آئے گی جب اس پر افتراء کیا جاوے گا اور اُس کا نام لے کر جھوٹ بولا جاوے گا ۔ اور پھر اس پیشگوئی میں ایک انسان کو پر ستش کرنے والے اور اسلامیوں کی روں سے کفر کا عقیدہ رکھنے والے کو اس نے حقیقی مسیح قرار دیا ۔ کیا کوئی مسلمان اس سے خوش ہو سکتا ہے ؟ ہمارا تو خیال ہے کہ پا دری بھی اس کو پسند نہیں کرے گا اور ایسی بات سے کبھی خوش نہیں ہو گا عیسائی ایسی باتوں کو کب مانتے ہیں ۔یہ تو سب فرضی باتیں معلوم ہوتی ہیں ۔گورنمنٹ کی اطاعت اورامر ہے اور مذہبی امور اور بات ہے جہانتک ہمارا خیال ہے ایسی چور کاروائی سے یہی معلوم ہتا ہے کہ یہ کوئی فرضی نام ہوگا۔ کئی خطوط آتے ہیں ۔جب اُن کا جواب بھیجا جاتا ہے تو کئی دنوں کے بعد وہی واپس آجاتا ہے جس پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ اس نام کی بہتری تلاش کی گئی۔مگر کوئی شخص اس نام اور پتہ کا نہیں ملا ۔ حضرت اقدس نے فرمایا :۔ میں نے پڑھا ہے ۔ اصل میں یہ لوگ ہمارے مقابلہ پر ہر ایک شر سے کام لینا چاہتے ہیں اور ہمیں ہر طرح کے نقصان پہنچانے کی کو شش کی جا تی ہے امام حسین ؑ کو قریباً پچاس ہزار کونے کے آدمیوں نے خط لکھا کہ آپ آئیں ہم نے بیعت کرنی ہے اور جب وہ آئے تو سب مل کر قسمیں کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے تو کوئی خط لکھا روانہ نہیں کیا اور صاف انکار کر دیا اور ابھی تقویٰ اس زمانہ میں بہت تھا کیونکہ زمانہ نبوت کو تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا مگر اس زمانہ کے لو گوں