کرنے والوں کے حال ہیں اور اُن کے کشفوں اور الہامون کا حال یہ ہے کہ خدا ان کو کہتا تو کچھ اور ہے اور جو کچھ اور جاتا ہے اور پھر ایک نہیں کئی ہیں ۔حقیقۃ الوحی میں ہم نے نمونہ کے طور پر لکھ دئیے ہیں ۔
دیکھو غلام دستگیر نے لکھا تھا کہ جیسے مجمع بحا را الانور کے مولف کی دعا سے اُن کے زمانہ کے مہدی کاذب کا بیڑا غارت ہوا تھا ویسے ہی میری دعا سے مرزا قادیانی جڑ سے کاٹا جائے گا ۔پھر دیکھو وہ خود ہی تباہ ہو گیا اور یہ باتیں ایسی نہیں جو یونہی چھوڑ دی جاویں بلکہ ان پر غور کرنا چاہئیے۔
فرمایا :۔
اصل میں جیسے کافر اور مشرک لوگ آنحضرت ﷺ کو ہنسی اور ٹھٹھے میں اُڑانا چاہتے تھے ویسے ہی یہ ہم کو بھی ہنسی ٹھٹھے میں اُڑانا چاہتے ہیں ۔ آپ تو وہ عورتوں کی طرح چھپ کر بیٹھا ہو ا ہو گا ۔اصل میں دلی میں ہنسی ٹھٹھا بہت ہے ۔ کوئی دیندار ایسے لفظ کب استعمال کر سکتا ہے کہ ایسا شخص جو نصر انیت کے شرک میں مبتلا ہو اور ایک انسان کو پوچھنے والا ہو اصلی مسیح ہے ۔ خیال تو کرو کہ مسلمان ہو کر اپنے مذہب کو کیسے ہنسی ٹھٹھے میں اڑاتا ہے ۔ آریہ وغیرہ بھی اپنے مذہب سے ایسی ٹھٹھے نہیں کرتے ۔معلوم ہوتا ہے کہ ابھی دلی کی کمبختی کچھ باقی ہے ـ۱؎
۲۰ستمبر ۱۹۰۷ء
( بوقت سیر )
الدار کی حفاظت کا الہیٰ وعدہ
فرمایا
آج رات کو پھر الہام ہوا کہ
’’ انی حَافظُ کُلَّ من فی الدَّارِ ‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال یا دوسرے سال شدت سے طاعون پڑے گی ۔گو بڑے بڑے انتظام ہو رہے ہیں کہ کسی طرح طاعون دور ہو مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ ان تدابیر میں اللہ تعالیٰ کی ذکر تک بھی نہیں کیا جاتا ۔ہم نے مانا کو قواعد بھی ہیں ۔طیب اور ڈاکٹر بھی ہیں ۔ انتظام بھی ہیں ۔مگر یہ تو بڑی بے ادبی کی بات ہے کہ اصلی اور حقیقی محا فظ کا اشارہ تک نہیں کیا جاتا اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعون ہیضہ یا کوئی اور وبائی امراض پھیلنے والے ہیں اور اللہ کریم وعدہ فرماتا ہے کہ انی حَافظُ کُلَّ من فی الدَّارِ اوراخبار روزانہ میں جو میری نسبت پیشگوئی کی گئی ہے کہ طاعون سے