میں نے جواب دیا کہ مولوی بن کی مفسرین کر ایسی بات کرنی ؟ بھلا یہ تو پہلے بتلاؤ کہ یہ صیغہ کا ہے بس پھر تو یہی کہنے لگ گیا ۔جی غلطی ہو گئی ۔
توفی کے معنے پورا دینے کے وہاں ہو ں گے جہاں باب تفعیل ہو گا اور قبض روح کے معنے وہاں ہو نگے جہاں باب تفعل سے ہو گا ۔
میر کرامت علی خان دہلوی کا عقیدہ
فرمایا :۔
عجیب بات ہے کہ ہمیں تو رد کر دیا اور ایک عیسائی کو مسیح بنا دیا ۔امید ہے کہ ایک ہنسی ٹھٹھا کی پیشگوئی ہو گی ۔ ورنہ ایک مسلمان کا ایسے شخص کو مسیح قرار دینا جو انسان کی پر ستش کرتا اور انسان کو خدا بناتا اور مسلمانوں کے نزدیک کفر کا عقیدہ رکھتا ہے نیک نیتی پر مبنی نہیں ہو سکتا محض ہنسی ٹھٹھا معلوم ہوتا ہے ۔
حضور کے متعلق ہلاکت کی پیشگوئیاں کرنیوالوں کا انجام
فرمایا :۔
طاعون تو ابھی سر پر ہے یہ کوئی صحیح فیصلہ تو نہیں کہ اب طاعون دور ہو گئی ہے ۔یاد رکھو کہ مضری کو خدا تعالیٰ بے سزا کبھی نہیں چھوڑتا ابھی تو طاعون کی نسبت گورنمیٹ خود بھی حیران ہے کہ اس کو روکنے کی کیا تدبیر کی جا وے اور اس طرف خدا تعالیٰ نے ہمیں بھی خبر دے رکھی ہے کہ اس سال یا اگلے سال سخت طاعون پڑے گی اور شدت سے پڑے گی اور مغربی ممالک میں بھی خطر ناک طاعون پڑے گی اور کابل کی نسبت طاعون تو نہیں مگر یہ فرمایا ہے کہ وہاں پچاسی ہزار آدمی ہلاک ہو ں گے اور ساتھ ہی ہمارے ساتھ وعدہ ہے کہ
’’ انی حَافظُ کُلَّ من فی الدَّارِ ‘‘
اگر یہ افتراء ہے تو دکھاؤ کہ ان گیا رہ برسوں میں کتنے ہلاک ہوئے ۔؟
دیکھو فقیرمرزا نے میری نسبت کتنے زور سے یہ پیشگوئی کی کہ یہ شخص آئندہ ماہ رمضان میں طاعون سے مرے گا اور بڑا بڑا دعویٰ کیا کہ میرا عرش معلی تک گذرا ہوا ہے اور میری نسبت بار بار کہا کہ یہ جھوٹا ہے اور مجھے خدا کی آواز آئی ہے کہ اس پر آئندہ ماہ رمضان کی فلاں تاریخ کو بڑا غضب نازل ہو گا اور تباہ ہو جائے گا مگر دیکھو کہ پھر خودہی طاعون سے ہلاک ہو گیا اور پھر عجیب بات یہ کہ آئندہ رمضان کی اسی تاریخ کو آپ ہی ہلاک ہو گیا جس تا ریخ کو میری ہلاکت کی پیشگوئی لکھی تھی ۔
پھر چراغ الدین کو دیکھو جو بڑا دعویٰ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ حضرت عیسٰی ؑ نے مجھے عصا دیا ہے اور پھر میری ہلاکت کے لئے بڑی بڑی دعائیں کرتا رہا آخر خود ہی اپنے لڑکوں سمیت طاعون سے مارا گیا ۔ یہ تو ان پیشگوئی