الہام کا یہی مطلب ہے کہ اس ابتلاء میں تو پورا اُترا۔
اس کے بعد پھر آنکھ لگ گئی تو میں کیا دیکھتاہوں کہ ایک نہایت خوشخط خوبصورت کا غذ میرے ہاتھ میں ہے جس پر کوئی پچاس ساٹھ سطریں لکھی ہوئی ہیں۔ میں نے اس کو پڑھا ہے مر اس میں سے یہ فقرہ مجھے یاد رہا ہے کہ ’’ یَا عَبْدَ اللّٰہِ اِنِّیْ مَعَکَ ‘‘
یعنی اے خدا کے بندے میں تیرے ساتھ ہوں اور اس کو پڑھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ گویا خدا کو دیکھ لیا ۔ دیکھو ہمارے ساتھ تو خدا تعالیٰ کے یہ معاملے ہیں اور یہ ہیں جو ہماری ہلاکت کی پیشگوئیاں کرتے ہیں۔ اگر خدا تعالیٰ کو اپنے دین کا بیڑا غرق کر دینا منظور ہے تو جو چاہے سو کرے۔ اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ مگر یہاں تو اس نے بڑے بڑے وعدے دیئے ہوئے ہیں۔ ایک طرف خدا تعالیٰ تو یہ فرماتاہے :۔
وَلَکَ نُرِیْ اٰیَاتٍ وَنَھْدِ مُ مَا یَعْمُرُوْنَ ۔اُرِیْحُکَ وَلَا اُجِیْحُکَ وَاُخْرِجُ مِنْکَ قَوْماً ۔ اَنْتَ الشَّیْخُ الْمَسِیْحُ الَّذِیْ لَا یُضَاعُ وَقْتُہٗ ۔کَمِثْلِکَ دُرٌّ لَّا یُضَاعُ۔ لَکَ دَرَجَۃٌ فِی السَّمَآئِ وَفِی الَّذِیْنَ ھُمْ یُبْصِرُوْنَ
(یعنی میں تجھے آرام دوں گا اور تیرا نام نہیں مٹائوں گا اور تجھ سے ایک بڑی قوم پیدا کروں گا اور تیرے لیے ہم بڑے بڑے نشان دکھلا ویں گے اور ہم ان عمارتوں کو ڈھا دینگے جو بنائی جاتی ہیں۱؎۔تو وہ بزرگ مسیح ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا اور تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہوسکتا۔ آسمان پر تیرا بڑا درجہ ہے اور نیز ان لوگوں کی نگاہ میں جن کو آنکھیں دی گئی ہیں۔
مگر یہ کہتے ہیں کہ اس کی تمام جماعت پاش پاش ہو جاوے گی اور یہ خود بھی طاعون سے ہلاک ہو جائے گا۔
تَوَفِّیْ کے معنی :۔
فرمایا؛۔
ایک دفعہ دلی میں تین شخص ہمارے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا تھا کہ تم دعویٰ کرتے ہو کہ مسیح ناصری فوت ہو چکا اور آنے والا مسیح میں ہوں اور توفی کے معنی قبض روح کے کرتے ہو حالانکہ اس کے معنی پورا کرنے کے بھی ہیں اور ا سکی تائید میں یہ فقرہ پڑھ کر سنایا تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَا ضَمِنَتْ ۔