لگائے گئے۔ عدالتوں میں ہم پر طرح طرح کے جھوٹے الزام ثابت کرنے کی کوشش کی گئی اور ان لوگوں نے ہمارے برخلاف آتمارام اور چنددلال کے سامنے کتنے جھوٹ بولے۔ فسق وفجور کی کوئی حدنہیں رہی اور خاص کر جھوٹ میں تو ان لوگوں نے وہ کمال حاصل کیاہے کہ اگر لاکھ آدمی بھی مل کر شہادت دیں تو اعتبار نہیں ہوسکتا۔ شیخ یعقوب علی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایاکہ :۔ یہ تمہارا ذمہ ہے کہ پیشہ اخبار کی طرف اصلیت کو دریافت کرنے کے لیے ایک خط لکھو بلکہ میں کہتاہوں کہ خود ہی ایک دو آدمی کرامت علی کے پاس دلّی چلے جائواور اس کو یہ اخبار دکھا دو۔ کسی شخص نے عرض کی کہ منشی قاسم علی اور ڈاکٹر محمد اسماعیل دلّی میں موجود ہیں اور بڑے مخلص ہیں انہیں کو لکھا جاوے۔ حضرت نے مولوی محمد احسن صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا:۔ ہم تو اسی وقت آدمی بھیجنے کو بھی تیار تھے مگر خیرانہیں کو لکھ دو اور تاکیداً لکھ دو کہ ہمارا خط دیکھتے ہی خود اس کے پاس جائیں اور اخباردکھادیں۔ اگر وہ اقرار کرے تو بھی اس سے لکھوالیں اور اگر انکار کرے تو بھی اس سے لکھوالیں۔ منشی قاسم علی اور ڈاکٹر محمد اسمٰعیل ہمارے خط کو دیکھتے ہی اس کے پاس جاویں اور پوری کوشش سے کام لے کر اس سے اقرار لیں۔ ایسی چور کارروائی ٹھیک نہیں ہے۔ اُن کو تاکیداً لکھ دو کہ خود جاکر اس سے اقرار لیویں اور اس کے ہاتھ سے لکھوائیں۔ یہ تو بڑی فیصلہ کی بات ہے۔ گویا تمام دنیا کو ایک فیصلہ نے ہی چھڑا دیا ہے ۔ اس کے پاس ضرور خود جاکر اس کی تصدیق کرانی چاہیئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنے کے لئے ایسی پیشگوئیاں کر دیتے ہیںمگر خدا تعالیٰ فرماتاہے ۔ وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ( البقرۃ: ۷۳)ایک ہفتہ تک پتہ لگ جائے گا کہ اصلیت کیا ہے؟ چاہیئے کہ یہی اخبار اُن کو بھیج دیا جاوے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ وہاں سے اخبار ہی تلاش کرتے پھریں۔ کرامت علی کے پاس جاکر اخبار کی وہ جگہ اُسے دکھلائیں جہاں پیشگوئی درج ہے اور اس کو کہدیں کہ ایک بڑی جماعت کے ساتھ تمہارا مقابلہ ہے ۔ اس کی تصدیق ہم کرنے آئے ہیں۔ اور وہ اس بات کی بھی اچھی طرح سے تصدیق کرلیں کہ وہ کون سے ساٹھ آدمی ہیں جن کو چھونے سے ان کی طاعون جاتی رہی اور وہ تندرست ہوگئے۔ خوشنودی کے چند الہامات:۔ فرمایا؛ کئی دنوں سے ابتلائوں کا سامنا تھا۔ بیس پچیس دن راتو میں سویا بھی نہیں۔ آج ذرا سی میری آنکھ لگ گئی تو یہ فقرہ الہام ہوا۔ ’’خدا خوش ہوگیا‘‘ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ کریم اس بات سے بہت خوش ہواہے کہ اس ابتلاء میں میں پورا اُترا ہوں۔ اور اس