دہلی کا بیان ہے کہ ساٹھ مریضوں کو تعویذ پلائے گئے سب کے سب بچ گئے۔ اب کہ طاعون کے متعلق جو پیشگوئی کی گئی ہے برائے اندراج پیسہ اخبارارسال خدمت ہے۔
پیشگوئی متعلقہ طاعون بابت سال ۱۹۰۷ئ و ۱۹۰۸ئ پنجاب میں اب کے طاعون کا پہلے سال جیسا زور نہیں ہوگا البتہ ممالک مغربی و شمالی میں بہت زور ہوگا۔ دلی میں بھی گذشتہ سال سے زیادہ ہوگا۔ پنجاب کے ایک بہت بڑے مذہبی لیڈر جن کو دعویٰ ہے کہ ان کو طاعون نہیں ہو سکتا طاعون سے انتقال کر یں گے ۔ ان کے مرید اس واقعہ سے متاثر ہوکر اپنے کئے سے پشیمان ہوں گے ۔ ہندوستان سے طاعون دُور نہیں ہوگا جب تک کہ اصلی مسیح موعود یعنی پرنس ایڈورڈخلف جناب پرنس آف ویلز و نبیرہ حضور ملک معظم شاہ ایڈورڈ ہندوستان میں بطور وائسرائے نہیں آئیں گے ۔ ( نیازمندنور احمد خریدار روزانہ پیسہ اخبار معرفت ایجنٹ دہلی )۱؎
یہ مراسلہ سُنکر حضرت اقدس نے فرمایا :۔
پیشگوئیاں تو وہ ہوتی ہیں جو قبل از وقت ِ وقوع اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے عام طور پر شائع ہوں اور دُنیا میں ان کی عام طور پر شہرت ہو۔ آج کل کے لوگوں کی زبانی شہادتوں کا کیا بھروسہ ہے ۔
ہمارے مخالفوں کی اس وقت عجیب حالت ہو رہی ہے ۔ تھوڑے دنوں کی بات ہے کہ ایک جگہ آٹھ آدمیوں نے قسم کھاکے بیان کیا کہ ہم دیکھ آئے ہیں جو مجھے جذام ہوگیاہے ۔ زبانی شہادتوں پر تو بڑی بڑی کرامتیں لوگوں میں مشہور ہو جایا کرتی ہیں حالانکہ اصلیت کچھ بھی نہیں ہوتی۔
فرمایا :۔
یہ اخبار تو رکھنے کے لائق ہے۔ اس کی پہلی پیشگوئی کی نسبت صرف زبانی شہادتوں کو ہم کافی نہیں سمجھتے ۔ ہاں یہ ایک پیشگوئی ہے جو اس اخبار میں درج ہے۔ اب خود بخود سچائی ظاہر ہو جاوے گی۔ اس نے بڑا ہی ظلم کیا ہے جو دلی میں ہزاروں آدمی طاعون سے مرگئے اور اُس نے اُن کو چھوا تک بھی نہیں ۔ زبانی شہادتیں آج کل کے لوگوں کی قابل ِ قدر نہیں البتہ اس کی یہ پیش گوئی محفوظ رکھنے کے لائق ہے۔
یہ کیسی حیلہ سازی ہے کہ جو پیشگوئی کرتاہے وہ تو چُپ ہے اور اس کی بجائے ایک دوسرا شخص شائع کرتا ہے ۔ دیکھو جتنی پیشگوئیاں ہم کرتے ہیں خود ہی لکھتے اور شائع کرواتے ہیں۔ اصل میں قرون ثلاثہ۲؎ کا حال کمال پر پہنچ چکا ہے۔ اس زمانہ میں جھوٹ تو حلوا بے دُود سمجھا جاتاہے ۔ ہم پر بڑے بڑے افتراء کئے گئے
اور طرح طرح کے بہتان