جن کا گذارہ مزدوری پر ہے روزہ نہیں رکھاجاتاان کی نسبت کیا ارشاد ہے؟ فرمایا:۔ اَلْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ یہ لوگ اپنی حالتوں کو مخفی رکھتے ہیں۔ ہر شخص تقویٰ و طہارت سے اپنی حالت سوچ لے ۔ اگر کوئی اپنی جگہ مزدوری پر رکھ سکتاہے تو ایسا کرے ورنہ مریض کے حکم میں ہے ۔ پھر جب میسر ہو رکھ لے۔ (۲) اور وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَہٗ ( البقرۃ : ۱۸۵) کی نسبت فرمایا کہ :۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو طاقت نہیں رکھتے ۔ (۳) اور نصف شعبان کی نسبت فرمایا کہ :۔ یہ رسوم حلواوغیرہ سب بدعات ہیں ۔۱؎ ۱۹؍ستمبر ۱۹۰۷ئ؁ (بوقت ظہر) حضور نے متعلق ایک شخص کی پیشگوئی:۔ پیسہ اخبار مورخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۰۷ئ؁ میں شائع شدہ دہلی کے ایک شخص نور احمد نامی کا مندرجہ ذیل مراسلہ حضرت اقدس کی خدمت میں پڑھ کر سُنایا گیا :۔ پچھلے سال اکتوبر مہینہ میں افسر الاطباء جناب حافظ محمد اجمل خاں صاحب کے دولت کدہ میں بموجودگی جناب نواب شجاع الدین صاحب رئیس لوہارو۔ خان بہادر غلام حسن خان صاحب آنریری مجسٹریٹ و رئیس دہلی ۔ نواب مرزا اکبر علی خاں صاحب ۔ حاجی عبدالغنی و دیگر معززین جناب مولانا مولوی سیر کرامت علی خاں صاحب نے فرمایا تھا کہ اب کے طاعون فروری میں زور پکڑے گا اور اپریل مئی میں یہاں تک زور ہوگا کہ نوے ہزار فی ہفتہ اموات طاعون سے ہوں گی ۲۴؍ اپریل صبح ۵۔۴؍۱ بجے اٹلی میں زلزلہ آئے گا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ دلی میں بھی طاعون ہوگا اور افراتفری پھیلے گی لیکن جس محلہ میں آپ کا مسکن ہے وہاں طاعون نہیں ہوگا ۔ جس طاعون کے مریض کو میں چھوئو ں گا وہ طاعون سے نہیں مرے گا۔ چنانچہ یہ پیشگوئی من و عن پوری ہوئی۔ فراش خانہ میں حضرت کا مکان ہے وہاں طاعون نہیں ہوا۔ اور یہ بھی سُنایا گیا کہ جن بیماروں کو آپ نے تعویذ دیا وہ بچ گئے ۔ چنانچہ ولایت علی اور قمر الدین سوداگران صدر بازار