عمرؓ سے نہ رہا گیا۔ انہوںنے کہا کمبخت کیا بکتاہے ۔ سب زندہ ہیں۔ ایسی تلخیوں کا دیکھنا بھی ضروری ہوتاہے مگر اُن کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱؎ نے فرمایا کہ اب اس کے بعد کفار ہم پر چڑھائی نہ کریں گے بلکہ ہم کفار پر چڑھائی کریں گے ۔مکہ سے نکلنے کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسی تلخی کا وقت تھا۔ ہمارے مخالف اس بات پر خوش ہوتے ہوں گے کہ ان کا بیٹا مرگیا۔ مگر اس میں تو پیشگوئی پوری ہوئی ہے اور نیز خدا کے ساتھ جو زندگی ہوتی ہے وہ مصائب اور شدائد کے ساتھ ملی جلی ہوتی ہے ۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کتنے ہی لڑکے فوت ہوئے تھے۔ ایسا ہی کفار نے اس وقوت بھی خوشیاں منائی ہوں گی۔ دشمن میں ہمدردی کی طاقت سلب ہو جاتی ہے مگر آخری فیصلہ خدا تعالیٰ کے پا سہے اور تمام باتوں کو ملا کر یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیئے کہ انجام کیا ہوتا ہے خدا تعالیٰ چاہتاہے کہ ہم لوگوں کو اسی سنت پر لائے جو قرآن کریم میں مرقوم ہے کیونکہ پہلے تمام انبیاء پر مصائب شدائد پڑتے رہے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ تم پر ان آزمائشوں کا پڑنا ضروری ہے جو پہلوں پر پڑیں ۔ ان امتحانوں میں پاس ہونے کے بعد تم سچے مومن کہلا سکتے ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبکہ اپنی خواب کی بناء پر حج کے واسطے گرمی میں سفر کیا تھا اور پھر اس سال حج نہ ہوا تو یہ امر بہتوں کے واسطے موجب ابتلاء ہوا تھا مگر اس کے بعد خدا تعالیٰ نے بہت ساری فتوحات دیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مصائب سب سے بڑھ کر تھے:۔ تمام انبیاء پر مصائب اور تکالیف پڑیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو تکالیف آئیں وہ سب سے بڑھ کر تھیں۔ حضرت عیسیٰؑ کا وقت بھی بہت تھو ڑا تھا صرف تین سال لوگوں کو تبلیغ کی وہ بھی اکثر حصہ گمنامی میں گذر گیا ۔ صرف ایک مصیبت واقعہ صلیب کی اُن پر پڑی ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سخت مصائب پڑے ۔ تیرہ سال تک بڑے صبر اور استقلال کے ساتھ آپ نے مکہ میں زندگی بسر کی اور ہر طرح کا دُکھ اُٹھایا اور آخر نہایت مجبوری کی حالت میں ہجرت کی۔ آپؑ پر تکالیف سب سے بڑھ کر تھیں۔ آنحضرتؐ کی کامیابی سب سے بڑھ کر تھی:۔ مگر آپؐ کو جو کامیابی نصیب ہوئی وہ بھی سب سے بڑھ کر تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے اصحاب دیئے گئے جنہوں نے آپؐ کی خاطر جانیں دے دیں اور اس کو فخر سمجھالیکن حضرت عیسیٰؑ کے اصحاب کو دیکھتے ہیں تو ایک نے تیس روپے لے کر اپنے نبی کو بیچ ڈالا گویا وہ اس کا مرشد نہ تھا غلام تھا۔ دوسرے نے منہ پر لعنت کی۔ حضرت موسیٰؑ کے