یہ جائز ہے اور سود میں داخل نہیں ۔ ایک شخص وقت ضرورت ہم کو نوٹ بہم پہنچا دیتاہے یا نوٹ لے کر روپے دے دیتاہے تو اس میں کچھ ہرج نہیں کہ وہ کچھ مناسب کمیشن اس پر لے لے۔ کیونکہ نوٹ یا روپیہ یا ریزگاری کے محفوظ رکھنے اور تیار رکھنے میں وہ خود بھی وقت اور محنت خرچ کرتاہے۔
فاسقہ کا حقِ وراثت:۔
ایک شخص نے بذریعہ خط حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ ایک شخص مثلاً زید نام لا ولد فوت ہوگیا ہے۔ زید کی ایک ہمشیرہ تھی جو زید کے حین ِ حیات میں بیاہی گئی تھی۔ بہ سبب اس کے کہ خاوند سے بن نہ آئی اپنے بھائی کے گھر میں رہتی تھی اور وہیں رہی یہاں تک کہ زید مرگیا ۔ زید کے مرنے کے بعد اس عورت نے بغیر اس کے کہ پہلے خاوند سے باقاعدہ طلاق حاصل کرتی ایک اور شخص سے نکاح کر لیا جو کہ ناجائز ہے ۔ زید کے ترکہ میں جو لوگ حقدار ہیں کہ ان کے درمیان اس کی ہمشیرہ بھی شامل ہے یا اس کو حصہ نہیں ملنا چاہئے؟
حضرت نے فرمایا کہ:۔
اس کو حصہ شرعی ملنا چاہیئے کیونکہ بھائی کی زندگی میں وہ اس کے پاس رہی اور فاسق ہو جانے سے اس کا حق وراثت باطل نہیں ہوسکتا۔ شرعی حصہ اس کو برابر ملنا چاہئے باقی معاملہ اس کا خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ اس کا پہلا خاوند بذریعہ گورنمنٹ باضابطہ کارروائی کرسکتاہے۔ اس کے شرعی حق میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔
ابنیاء کے مصائب:۔ فرمایا؛۔
انبیاء کے سوانح اور حالات میں بعض ایسے امور ہوتے ہیں کہ کفار کے واسطے موجب ٹھوکر ہو جاتے ہیں ۔ مگر اُس میں قصور ان کفار کا ہوتاہے کیونکہ وہ صرف ایک واقعہ کو پکڑ لیتے ہیں اور باقی تمام باتوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ انصاف یہ ہے کہ تمام امو رکو یکجائی نظر سے دیکھاجائے۔ انبیاء پر جو مصائب آتے ہیں اُن
میں بھی اللہ تعالیٰ کے ہزار ہا اسرار ہوتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سے مصائب آتے تھے ۔ جنگ اُحد میں ایک روایت ہے کہ آپؐ کو ستر تلواروں کے زخم لگے تھے اور مسلمانوں کی ظاہری حالت خراب دیکھ کر کفار کو بڑی خوشی ہوئی ۔ چنانچہ ایک کافر نے یہ یقین کرکے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ؐ کے اصحاب کبار سب شہید ہوگئے ہو ں گے بآواز بلند پکار کر کہا کہ کیا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم میں ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ خاموش رہو اس کا جواب نہ دو۔ خاموشی سے اُسے خوشی ہوئی کہ فوت ہوگئے ہوں گے اس واسطے جواب نہیں آیا۔ پھر اسی طرح اس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق آواز دی ۔ تب بھی اُدھر سے خاموشی اختیار کی۔ پھر اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق آواز دی ۔ حضرت