ایسی باتوں سے تعلق نہ ہو اور خدا تعالیٰ سے استغفار کرتے رہنا چاہئے۔
(۲) ننگوں کیساتھ میل جول :۔
افریقہ سے ایک دوست نے بذریعہ تحریر حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ اس جگہ کے اصلی باشندے مردو زن بالکل ننگے رہتے ہیں اور معمولی خوردو نوش کی اشیاء کالین دین ان کے ساتھ ہی ہوتاہے تو کیا ایسے لوگوں سے ملنا جلنا گناہ تو نہیں؟
حضرت نے فرمایاکہ :۔
تم نے تو ان کو نہیں کہا کہ ننگے رہو وہ خود ہی ایسا کرتے ہیں۔ اس میں تم کو کیا گناہ ؟ وہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ ہمارے ملک میں بعض فقیر اور دیوانے ننگے پھرا
کرتے ہیں۔ ہاں ایسے لوگوں کو کپڑا پہننے کی عادت ڈالنے کی کوشش کر نی چاہئے۔
ایسے ہی لوگوں کی نسبت یہ بھی سوال کیا گیا کہ چونکہ ملک افریقہ میں غریب لوگ بھی ہیں جو نوکری پر بآسانی سستے مل سکتے ہیں۔ اگر ایسے لوگوں سے کھانا پکوایا جائے تو یہ کیا جائز ہے؟ یہ لوگ حرام حلال کی پہچان نہیں رکھتے :
فرمایا:۔
اس ملک کے حالات کے لحاظ سے جائز ہے کہ اُن کو نوکر رکھ لیا جائے اور اپنے کھانے وغیرہ کے متعلق ا ن سے احتیار کرائی جائے۔
(۳) ایسی عورتوں سے نکاح:۔
یہ بھی سوال ہوا کہ کیا ایسی عورتوں سے نکاح جائز ہے ؟
فرمایا :۔
اس ملک میں اور ان علاقوں میں بحالتِ اضطرار ایسی عورتوں سے نکاح جائز ہے لیکن صورت ِ نکاح میں اُن کو کپڑے پہنانے اور اسلامی شعار پر لانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔
نوٹوں پر کمیشن :۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں سوال پیش ہوا کہ نوٹوں کے بدلے روپیہ لینے یا دینے کے وقت یا روپیہ توڑانے کے وقت دستور ہے کہ کچھ پیسے زائد لیے یا دیئے جاتے ہیں کیا اس قسم کا کمیشن لینا یا دینا جائز ہے؟
حضرت نے فرمایا: ۔