جس نے اس میں گند گی پڑتی دیکھی ہو اس کے استعمال سے کراہت کرے تو اس کے واسطے مجبوری نہیں کہ خواہ مخواہ اس سے یہ پانی استعمال کرایا جائے جیسا کہ گوہ کا کھانا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز رکھا ہے مگر خود کھانا پسند نہیں فرمایا۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسا کہ شیخ سعدی نے فرمایا ہے ۔
؎ سعد یا حبِّ وطن گرچہ حدیث است درست
نتواں مُرد بہ سختی کہ دریں جا زادم
بدامنی کی جگہ پر احمدی کا کردار: ۔
سرحدپار کے علاقہ جات سے ایک جگہ سے چند احمدیوں کا ایک خط حضرت کی خدمت میں پہنچا کہ اس جگہ بدامنی ہے لوگ آپس میں ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں۔ کوئی پُرسان نہیں۔ چند ملاں ہم کو قتل کرنا چاہتے ہیں کیا آپ کی اجازت ہے کہ ہم بھی اُن کو قتل کرنے کی کوشش کریں؟
حضرت نے فرمایا کہ :۔
ایسا مت کرو۔ ہر طرح سے اپنی حفاظت کرو لیکن خود کسی پر حملہ نہ کرو۔ تکالیف اُٹھائو اور صبر کرو۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ تمہارے لیے کوئی انتظام احسن کردے۔ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اور صبر کرتاہے ۔ خدا تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتاہے۔
اضطراری حالات کے بعض مسائل :
(۱)آبکاری کی تحصیلداری :۔
ایک دوست جو محکمہ آبکاری میں نائب تحصیلدار ہیں ان کا خط حضرت کی خدمت میں آیا او رانہوں نے دریافت کیا کہ کیا اس قسم کی نوکری ہمارے واسطے جائز ہے؟
حضرت نے فرمایا کہ :۔
اس وقت ہندوستان میں ایسے تمام امور حالتِ اضطرار میں داخل ہیں۔ تحصیلدار یا نائب تحصیلدار نہ شراب بناتا ہے نہ بیچتا ہے نہ پیتاہے ۔ اس کی انتظامی نگرانی ہے اور بلحاظ سرکاری ملازمت کے اس کا فرض ہے ۔ ملک کی سلطنت اور حالات موجود ہ کے لحاظ سے اضطراراً یہ امر جائز ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ سے دُعا کرتے رہنا چاہئے کہ وہ انسان کے واسطے اس سے بھی بہتر سامان پید اکرے۔ گورنمنٹ کے ماتحت ایسی ملازمتیں بھی ہو سکتی ہیں جن کا