رہے گا ۔ خدا تعالیٰ کی دونوں پیشگوئیاں پوری ہونی تھیں۔ بخار بھی ٹوٹ گیا۔ اور خوردسالی میں فوت بھی ہوگیا۔ کچھ مدت گذری کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک جگہ پانی بہہ رہا ہے اور مبارک اس میں گر گیا ہے ۔ بہتیرا دیکھااور غوطے بھی لگائے مگر تلاش کرنے پر نہ ملا۔ یہ خواب ہمیشہ میرے مدنظر رہا ہے ۔ سید میر حامد شاہ صاحب نے عرض کی کہ حضو رمیری والدہ نے آج صبح کو خوا ب میں دیکھا تھا کہ حضور کے چار روشن ستارے ہیں۔ ایک اُن میں سے ٹوٹ کر زمین کے اند رچلا گیا ہے۔ پھر خلیفہ ڈاکٹر رشید الدین صاحب نے عرض کیا کہ مبارک احمد کو لو گ اکثر ’’ولی ولی ‘‘ کرکے پکارا کرتے تھے۔ فرمایا:۔ ہاں ولی وہی ہوتاہے جو بہشتی ہو میاں مبارک احمد کی قبر دوسری قبروں سے کسی قدر فاصلہ پر ہے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا:۔ بعض اوقات اگر باپ خواب دیکھے تو اس سے مراد بیٹا ہوتا ہے اور اگر بیٹا خوا بدیکھے تو اس سے باپ مراد ہوتاہے ۔ ایک دفعہ میں خواب میں یہاں ( بہشتی مقبرہ) آیا اور قبر کھودنے والوں کو کہا کہ میری قبر دوسروں سے جُدا چاہیئے ۔ دیکھو جو میری نسبت تھا وہ میرے بیٹے کی نسبت پور اہوگیا۔ ۱؎ ۱۸؍ستمبر ۱۹۰۷ئ؁۱؎ (بوقت سیر ) ایک الہام :۔ حضرت اقدس نے فرمایا:۔ مبارک احمد کی فوتیدگی سے دو دن پہلے یہ الہام ہوا تھا۔ ’’لَا عِلَاجَ وَلَا یُحْفَظُ‘‘ ورزش جسمانی :فرمایا:۔ حکیم لکھتے ہیں کہ ریاضاتِ بدنی ادویہ کی مشق سے بہتر ہوئی ہیں۔