ہے اور کبھی انسان کی مان لیتاہے ۔ یہ نہیں ہوتا کہ ہمیشہ انسان کی مرضی کے مطابق ہی کام ہوا کریں۔ اگر ایسا سمجھا جائے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی ہمیشہ انسان کے ارادوں کے موافق ہوتو پھر امتحان کوئی نہ رہا۔
کون چاہتاہے کہ آرام عیش و عشرت اور ہر طرح کے سُکھ سے دُکھ میں مبتلا ہوئوں۔ جس کے تین چار بیٹے ہوں ، وہ کب چاہتاہے کہ یہ مرجائیں اور کون چاہتا ہے کہ میری تمام خوشیاں دُکھوں اور مصیبتوں سے تبدیل ہو جاویں۔ غرض خدا تعالیٰ نے امتحان کو انسان کی ترقی کے لیے اور یا اُس کی بد گوہری ظاہر کرنے کے لیے مقرر کیا ہے ۔ بہت لوگ امتحان کے وقت طرح طرح کی باتیں بنانے لگ جاتے ہیں اور طرح طرح کے باطل تو ہمات اور وساوس انہیں اُٹھاکرتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ (البقرۃ : ۱۱)
یاد رکھو خدا تعالیٰ کا ساتھ بڑی چیز ہے ۔ اگر فرض بھی کر لیں کہ نہ کوئی بیٹا رہے نہ کوئی مال و دولت رہے پھر بھی خدا بڑی دولت ہے ۔ اس نے یہ کبھی نہیں کیا کہ جو اس کے ہو کر رہتے ہیں ان کو بھی تباہ کر دیا ہو۔ اس کے امتحان میں استقلال اور ہمت سے کام لینا چاہیئے ۔ یاد رکھو کہ امتحان ہی وہ چیز ہے جس سے انسان بڑے بڑے مدارج حاصل کر سکتاہے ۔ نری نمازیں اور دُنیا کے لیے ٹکریں کچھ چیز نہیں۔ مومن کو چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کے قضاو قدر کے ساتھ شکوہ نہ کرے اور رضا بالقضاپر عمل کرنا سیکھے اور جو ایسا کرتاہے میرے نزدیک وہی صدیقوں شہیدوں اور صالحوں میں سے ہے۔ جان سے بڑھ کر اور تو کوئی چیز نہیں اس کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیئے ۔ اور یہی وہ بات ہے جو ہم چاہتے ہیں۔
فرمایا:۔
ہمیشہ ایسا ہوتارہتا ہے کہ انسان جہاں چاہتاہے کہ بیمار بچ جاوے ہاں غلطیان ہو جاتی ہیں۔
اس پر ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب نے عرض کی کہ چند دن ہوئے حضور نے فرمایا تھا کہ خواب میں دیکھا ہے کہ اس مکان میں موت ہونے والی ہے اور بکری ذبح کی گئی اور ان دنوں میں مولوی نور الدین صاحب چونکہ بیمار تھے اس لیے ان کی نسبت خطرہ پڑگیا تھا اور نواب محمد علی خاں صاحب اور ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب اور میں ہم تینوں اس بات کے گواہ ہیں۔
فرمایا:۔
تقدیر دو طرح کی ہوتی ہے ایک کو تقدیر معلق کہتے ہیں اور دوسری کو تقدیر مبرم کہتے ہیں۔ ارادۂ الٰہی جب ہو چکتا ہے تو پھر اس کا تو کچھ علاج نہیں ہوتا۔ اگر ا س کا بھی کچھ علاج ہوتا تو سب دنیا بچ جاتی ۔ مبرم کی علامات ہی ایسی ہوتی ہیں کہ دن بدن بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور حالت بگڑتی جاتی ہے ۔ دیکھو نو دن کا تپ ٹوٹ گیا تھا بالکل نام و نشان باقی نہ رہا تھا مگر پھر دوبارہ چڑھ گیا۔ یہ تو خدا تعالیٰ نے نہیں کہا تھا کہ بخار ٹوٹنے کے بعد زندہ بھی