ہے۔ جب جائے گا بھی تو بے وقت جائے گا اور پھر خالی ہاتھ جائے گا۔ ہاں اگر کسی کے پاس اعمال ِ صالحہ ہوں تو وہ ساتھ ہی جائیں گے ۔ بعض آدمی مرنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں میرا اسباب دکھا دو اور ایسے وقت میں مال و دولت کی فِکر پڑ جاتی ہے۔
ہماری جماعت کے لو گ بھی اس طرح کے ابھی بہت ہیں جو شرطی طور پر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ بعض لوگ خطوں میں لکھتے ہیں کہ اگر ہمیں اتنا روپیہ مل جاوے یا ہمارا یہ کام ہو جاوے تو ہم بیعت کر لیں گے ۔ بے وقوف اتنا نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ کو تمہاری بیعت کی ضرورت کیا ہے ۔ ہماری جماعت کا ایمان تو صحابہ والا چاہیئے جنہوںنے اپنے سر خدا تعالیٰ کی راہ میں کٹوا دیئے تھے۔
اگر آج ہماری جماعت کو یورپ اور امریکہ میں اشاعتِ اسلام کے لیے جانے کو کہا جاوے تو اکثر یہی کہہ دیں گے جی ہمارے بال بچوں کو تکلیف ہوگی۔ ہمارے گھروں کا ایسا حال ہے ۔ یہ ہے وہ ہے ۔ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَۃٌ (الاحزاب :۱۴)اور ہم نے یہ تو نہیں کہنا کہ جاکر سر کٹوائیں بلکہ یہی ہے کہ دین کے لیے سفر کی تکالیف اور صدمے اُٹھاویں مگر اکثر یہی کہدیں گے ۔ جی گرمی بہت ہے زیادہ تکلیف کا اندیشہ ہے مگر خدا تعالیٰ کہتاہے کہ جہنم کی گرمی اس سے بھی زیادہ ہوگی۔ نَارُ جَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرّاً (التوبۃ:۸۱)صحابہ ؓ کا نمونہ مسلمان بننے کے لیے پکا نمونہ ہے ابھی تو جماعت پر مجھے یہ بھی اطمینان نہیں کہ اس کا نام میں جماعت رکھوں۔ ابھی تو یہ حشو ہے ۔ ایسا انسان تو ہمیں نہیں چاہئے جو صرف خوشی میں ہی خداتعالیٰ کو پکارے ۔ ایسے شخص پر تو ذرا خدا تعالیٰ کا امتحان آیا اور طرح طرح کی مایوسیاں اور بے امیدیاں ظاہر کرنی شروع کردیں۔ مگر خدا تعالیٰ فرماتاہے ۔ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْآ اَنْ یَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ( العنکبوت: ۳) کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف اتنا کہدینے سے ہی کہ ہم ایمان لائے چھوٹ جائیں گے اور ان کا امتحان نہ لیاجاوے گا۔ امتحان کا ہونا تو ضروری ہے اور امتحان بڑی چیز ہے ۔ سب پیغمبروں نے امتحان سے ہی درجے پائے ہیں ۔ یہ زندگی دنیا کی بھروسہ والی زندگی نہیں ہے ۔ کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ آخر چھوڑنی پڑتی ہے۔ مصائب کا آنا ضروری ہے ۔ دیکھو ایوبؑ کی کہانی میں لکھا ہے کہ طرح طرح کی تکالیف اسے پہنچیں اور بڑے بڑے مصائب نازل ہوئے اور اس نے صبرکئے رکھا۔ ہمیں یہ بہت خیال رہتاہے کہ کہیں ایسا نہ ہو۔ ہماری جماعت صرف خشک استخواں کی طرح ہو۔ بعض آدمی خط لکھتے ہیں تو ان سے مجھے بُو آجاتی ہے شروع میں تو وہ بڑی لمبی چوڑی باتیں لکھتے ہیں کہ ہمارے لیے دعا کرو کہ ہم اولیا اللہ بن جاویں اور ایسے اور ویسے ہو جاویں اور اخیر پر جاکر لکھ دیتے ہیں کہ فلاں ایک مقدمہ ہے اس کے لیے ضرور دُعا کریں کہ فتح نصیب ہو۔ اس سے صاف سمجھ میں آتاہے کہ اصل میں یہ ایک مقدمہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے خط لکھا گیا تھا۔ خدا تعالیٰ کی رضا مندی مدنظر نہ تھی۔
اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ خد ا تعالیٰ نے دو طرح کی تقسیم کی ہوئی ہے ۔ کبھی تو وہ اپنی منوانا چاہتا