میں بہت جلد ترقی کر لیتاہے اور وہ مدارج حاصل کر لیتا ہے جو اپنی محنت اور کوشش سے کبھی حاصل نہیں کر سکتا اسی واسطے اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ میں اللہ تعالیٰ نے کوئی بشارت نہیں دی مگر وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْی ئٍ( البقرۃ :۱۵۶)میں بڑی بری بشارتیں دی ہیں اور فرمایا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی طر ف سے بڑی بڑی برکتیں اور رحمتیں ہوں گی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
غرض یہی طریق ہے جس سے انسان خدا تعالیٰ کو راضی کر سکتاہے نہیں تو اگر خدا تعالیٰ کے ساتھ شریک بن جاوے اور اپنی مرضی کے مطابق اُسے چلانا چاہے تو یہ ایک خطرناک راستہ ہوگا جس کا انجام ہلاکت ہے۔ ہماری جماعت کو منتظر رہنا چاہیئے کہ اگر کوئی ترقی کا ایسا موقعہ آجاوے تو اس کو خوشی سے قبول کیا جاوے۔
آج رات کو ( مبارک احمد نے ) مجھے بلایا اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا اور مصافحہ کیا جیسے اب کہیں رُخصت ہوتاہے اور آخری ملاقات کرتاہے۔ جب یہ الہام اِنِّیْ اَسْقُطُ مِنَ اللّٰہِ وَاُصِیْبُہٗ ہوا تھا تو میرے دل میں کھٹکا ہی تھا۔ اسی واسطے میں نے لکھ دیا تھا کہ یا یہ لڑکا نیک ہوگا اور روبخدا ہوگا یا یہ کہ جلد فوت ہو جائیگا۔ قرآن شریف پڑھ لیا تھا۔ کچھ کچھ اردو بھی پڑھ لیتاتھا اور جس دن بیماری سے افاقہ ہوا۔ میرا سارا اشتہار پڑھا اور یا کبھی کبھی پرندوں کے ساتھ کھیلنے میں مشغول ہوجاتاتھا۔
فرمایا:۔
بڑا ہی بدقسمت وہ انسان ہے جو خدا تعالیٰ کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتاہے ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ تو دوست والا معاملہ چاہیئے ۔ کبھی اس کی مان لی اور کبھی اپنی منوالی۔
؎ زبخت خویش برخوردار باشی
بشرطِ آں کہ بامن یار باشی
ہمارے گائوں میں ایک شخص تھا۔ اس کی گائے بیمار ہوگئی ۔ صحت کے لیے دُعائیں مانگتا رہا ہوگا مگر جب گائے مر گئی تو وہ دہریہ ہوگیا
خدا تعالیٰ نے اپنی قضا و قدر کے راز مخفی رکھے ہیں اور اس میں ہزاروں مصالح ہوتے ہیں۔ میر اتجربہ ہے کہ کوئی انسان بھی اپنے معمولی مجاہدات اور ریاضات سے وہ قرب نہیں پا سکتا جو خدا تعالیٰ کی طر ف سے ابتلاء آنے پر پاسکتا ہے ۔ زور کا تازیانہ اپنے بدن پر کو ن مارتا ہے ۔خدا تعالیٰ بڑا رحیم وکریم ہے ۔ ہم نے تو آزمایا ہے ایک تھوڑا سا دُکھ دے کر بڑے بڑے انعام و اکرام عنا یت فرماتاہے ۔ وہ جہان ابدی ہے جو لوگ ہم سے جدا ہوتے ہیں وہ تو واپس نہیں آسکتے ہاں ہم جلدی اُن کے پاس چلے جاویں گے ۔ اس جہان کی دیوار کچی ہے اور وہ بھی گرتی جاتی ہے سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہاں سے انسان نے لے ہی کیا جانا ہے اور پھر انسان کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کب جانا