امتحان کو قبول کر‘‘ پھر کئی دفعہ یہ الہام بھی ہواہے۔ اِنَّمَایُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَ کُمْ تَطْھِیْراً‘‘ اور پھر اہل بیت کو مخاطب کرکے فرمایا ہے ۔ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ‘‘ اور پھر فرمایا ہے یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْ ا رَبَّکُمُ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ اس سے معلوم ہوتاہے کہ عورتوں کے لیے یہ بڑا تطہیر کا موقع ہے ۔ ان کو بڑے بڑے تعلقات ہوتے ہیں اور اُن کے ٹوٹنے سے رنج بہت ہوتاہے۔ میں تو اس سے بڑا خوش ہوں کہ خدا کی بات پوری ہوئی۔ گھر کے آدمی اس کی بیماری میں بعض اوقات بہت گھبرا جاتے تھے۔ میں نے ان کو جواب دیا تھا کہ آخر نتیجہ موت ہی ہونا ہے یا کچھ اور ہے ۔ دیکھو ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتاہے کہ اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ( المومن :۶۱)یعنی اگر تم مجھ سے مانگو تو قبول کروں گا اور دوسری جگہ فرمایا۔وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْیئٍ مِّنَ الْخَوْفِ۔۔۔۔۔۔۔ وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ ( البقرۃ : ۵۶ تا۵۸)اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی امتحان آیا کرتے ہیں۔ مجھے بڑی خوشی اس بات کی بھی ہے کہ میری بیوی کے منہ سے سب سے پہلا کلمہ جو نکلا ہے وہ یہی تھا کہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔کوئی نعرہ نہیں مارا۔ کوئی چیخیں نہیں ماریں ۔ اصل بات یہ ہے کہ دُنیا میں انسان اسی واسطے آتا ہے کہ آزمایا جاوے ۔ اگر وہ اپنی منشاء کے موافق خوشیاں مناتا رہے اور جس بات پر اس کا دل چاہے وہی ہوتا رہے تو پھر ہم اس کو خدا کا بندہ نہیں کہہ سکتے ۔ اس واسطے ہماری جماعت کو اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے دو طرح کی تقسیم کی ہوئی ہے اس لیے اس تقسیم کے ماتحت چلنے کی کوشش کی جاوے ۔ ایک حصہ تو اس کا یہ ہے کہ وہ تمہاری باتوں کو مانتا ہے اور دوسرا حصہ یہ ہے کہ وہ اپنی منواتا ہے جو شخص ہمیشہ یہی چاہتاہے کہ خد اتعالیٰ ہمیشہ اس کی مرضی کے مطابق کرتارہے اندیشہ ہے کہ شاید وہ کسی وقت مرتد ہو جاوے۔
کوئی یہ نہ کہے کہ میرے پر ہی تکلیف اور ابتلاء کا زمانہ آیا ہے بلکہ ابتداء سے سب نبیوں پر آتا رہاہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کا بیٹا جب فوت ہوا تھا تو کیا انہیں غم نہیں ہوا تھا۔ ایک روایت میں لکھا ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے تھے۔ آخر بشریت ہوتی ہے ۔ غم کا پیدا ہونا ضروری ہے ۔ مگر ہاں صبر کرنیوالوں کو بڑے بڑے اجر ملا کرتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کی ساری کتابوں کا منشایہی ہے کہ انسان رضا بالقضا سیکھے ۔ جو شخص اپنے ہاتھ سے آپ تکلیف میں پڑتاہے اور خد ا تعالیٰ کے لیے ریاضات اور مجاہدات کرتا ہے وہ اپنے رگ پٹھے کی صحت کا خیال بھی رکھ لیتاہے اور اکثر اپنی خواہش کے موافق ان اعمال کو بجالاتاہے اور حتی الوسع اپنے آرام کو مدنظر رکھتاہے۔ مگر جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی امتحان پڑتاہے اور کوئی ابتلاء آتا ہے تو وہ رگ اور پٹھے کا خیال مدنظر نہیں ہوتا۔ انسان جب کوئی مجاہدہ کرتاہے تو وہ اپنا تصرف رکھتاہے مگر جب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی امتحان آتا ہے تو اس میں انسان کے تصرف کا دخل نہیں ہوتا۔ انسان خدا تعالیٰ کے امتحان