کوئی خوبی ہو سکتی ہے۔ ۱؎اس لئے کہ ان تعلقات کی بناء خدا تعالیٰ کیلئے نہیں ہوتی۔ سچا اور پاک تعلق جو ہوتا ہے اس کے نمونے اسلام میں پائو گے کیونکہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر جو محبت ہوتی ہے وہ صرف اسلام ہی میں ہے۔
بیرسٹر:۔ عملی حالت کو دیکھنا چاہیئے۔
حضرت اقدس: یہ تو سچ ہے کہ عملی حالت کو دیکھنا چاہیئے مگر پہلے نیت بھی تو دیکھو آپ تو قانون دان ہیں۔ قانون میں بھی نیت کا سوال ہوتا ہے۔ ظاہری ترقیات سے یہ کبھی نتیجہ نہیں ہوا کرتا کہ نیک نیتی بھی ہے۔ بعض ظالم طبع لوگ بھی ایسے گذرے ہیں کہ انہوں نے عالمگیر سلطنتیں پیدا کر لی تھیں مگر لوگ لعنت بھیجتے ہیں۔ اس واسطے یہ بالکل سچی بات ہے کہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔
خیر یہ ترقیاں بھی نظر آجائیں گی اور ان کی حقیقت کھل جائے گی۔ خدا تعالیٰ نے مجھ پر جو کچھ ظاہر کیا ہے اور جس کی میں پیشگوئی کر چکا ہوں کہ ابھی زمانہ کے لوگ زندہ ہوں گے جو ۲؎ یہ تباہ ہو جائیں گے ۔ ایسی ترقیوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ ترقی وہی مبارک ہو گی جو خدا تعالیٰ کے احکام کی پابندی سے ہو ۔ ۳؎
۱۶؍ستمبر ۱۹۰۷ئ
صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات پر حضرت اقدس کی تقریر
ابتلائوں کی حکمت :۔ فرمایا:
قضاء و قدر کی بات ہے ۔ اصل مرض سے ( مبارک احمد نے) بالکل مخلصی پالی تھی۔ بالکل اچھا ہوگیا تھا۔ بخار کا نام ونشان بھی نہ رہا تھا۔ یہی کہتا رہا کہ مجھے باغ میں لے چلو ۔ باغ کی خواہش بہت کرتاتھا سوا ٓگیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش کے ساتھ ہی موت کی خبر دے رکھی تھی۔ تریاق القلوب میں لکھاہے ۔ اِنِّی
ْ اَسْقُطُ مِنَ اللّٰہِ وَاُصِیْبُہٗ مگر قبل از وقت ذہول رہتا ہے اور ذہن منتقل نہیں ہوا کرتا۔ پھر ایک جگہ پیشگوئی ہے ۔ ’’ہے تو بھاری مگر خدائی