امتیازی بات نہیں دکھاتا۔ اپنی بیوی کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہے جیسا پہلے تھا اور اپنے عیال و اطفال سے پہلے کی طرح پیش آتا ہے تو یہ اچھی بات نہیں۔ اگر بیعت کے بعد بھی وہی بد خلقی اور بدسلوکی رہی اور وہی حال رہا جو پہلے تھا تو پھر بیعت کرنے کا کیا فائدہ ؟چاہیئے کہ بیعت کے بعد غیروں کو بھی اور اپنے رشتہ داروں اور ہمسائیوں کو بھی ایسا نمونہ بن کر دکھاوے کہ وہ بول اُٹھیں کہ اب یہ وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔
خوب یاد رکھو کہ صاف ہو کر عمل کرو گے تو دوسروں پر تمہارا ضرور رُعب پڑے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا بڑا رُعب تھا۔ ایک دفعہ کافروں کو شک پیدا ہوا۔ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بد دُعا کریں گے تو وہ سب کافر مل کر آئے اور عرض کی کہ حضور بد دُعا نہ کریں۔ سچے آدمی کا ضرور رُعب ہوتا ہے ۔ چاہیئے کہ بالکل صاف ہو کر عمل کیا جاوے اور خدا کے لیے کیا جاوے تب ضرور تمہارا دوسروں پر بھی اثر اور رُعب پڑے گا۔۱؎
قومی ترقی کا راز:۔
۱۴؍ستمبر ۱۹۰۷ئ کو قادیان میں ایک بیرسٹر صاحب تشریف لائے تھے جن کا نام نامی مسٹر فضل حسین صاحب ہے ۔ اُن کے ساتھ ہی میاں حسین بخش صاحب پنشنررئیس بٹالہ بھی تھے۔
حضرت اقدس سے بھی ملاقات ہوئی ۔ اثنائے گفتگو میں بعض باتیں ایسی تھیں جو نہایت مؤثر اور اس زندہ ایمان کا ثبوت تھیں جو حضرت اقدس کو اللہ تعالیٰ پر ہے۔ اس لیے میں اس کو یہاں درج کرتاہوں۔
مسٹر فضل حسین ۔ آریوں نے اپنا یہ اصل قرار دیا ہے کہ جب تک بہت سی پابندیاں دور نہ ہوں، قومی ترقی نہیں ہو سکتی۔
حضرت اقدس؛۔ یہ غلط خیال ہے ترقی کا یہ اُصول نہیں ہے۔ اسلام نے کیسے ترقی کی ۔ کیا بے قیدی اور آزادی سے یا پابندی ٔ شریعت اور اطاعت سے بعض مسلمانوں کو بھی ایسا ہی خیال ہو رہا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بے قیدی سے ترقی ہو گی مگر میں اس راہ کو سخت مضر اور خطرناک سمجھتاہوں ۔مسلمان جب ترقی کریں گے خدا پرستی سے کریں گے ۔ جس طرح پر اوائل میں اسلام نے ترقی کی وہی خدا اب بھی موجود ہے ۔ میری جماعت ہی کو دیکھو ۔ مجھے کافر و دجال بنایا گیا ۔ میرے قتل کے فتوے دیئے ۔ راہ و رسم بند کیا۔ مسلمان میرے دشمن ہوگئے ۔ یہاں تک فتویٰ دیا کہ کوئی مسلمان ہم سے کشادہ پیشانی سے بھی پیش نہ آئے ۔ مگر آپ ہی بتائیں۔ اس مخالفت کا کی نتیجہ ہوا؟ اب میری جماعت چار لاکھ کے قریب ہے جس میں ڈاکٹر ہیں۔ حکماء ہیں۔ وکلاء ہیں۔ تاجر ہیں ۔ ہر پیشہ اور