اور دوسرے بُرے کاموں کو کرنے کی قوت۔ اور ایسی قوت کرروکے رکھنا یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اوریہ قوت انسان کے اندر اس طرح سے ہوتی ہے جس طرح کہ پتھر میں ایک آگ کی قوت ہے۔ استغفار کے معنی :۔ اور استغفار کے یہی معنی ہیں کہ ظاہر میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو اور گناہوں کے کرنے والی قوت ظہور میں نہ آوے ۔ انبیاء کے استغفار کی بھی یہی حقیقت ہے کہ وہ ہوتے تو معصوم ہیں مگر وہ استغفار اس واسطے کرتے ہیں کہ تا آئندہ وہ قوت ظہور میں نہ آوے اور عوام کے واسطے استغفار کے دوسرے معنی بھی لیے جاویں گے کہ جو جرائم اور گناہ ہو گئے ہیں اُن کے بد نتائج سے خدا بچائے رکھے اور اُن گناہوں کو معاف کردے اور ساتھ ہی آئندہ گناہوں سے محفوظ رکھے۔ بہرحال یہ انسان کے لیے لازمی امر ہے وہ استغفار میں ہمیشہ مشغول رہے۔ یہ جو قحط اور طرح طرح کی بلائیں دُنیا میں نازل ہوتی ہیں ان کا مطلب یہی ہوتاہے کہ لوگ استغفار میں مشغول ہو جائیں۔ مگر استغفار کا یہ مطلب نہیں ہے جو استغفراللہ استغفراللہ کہتے رہیں۔ اصل میں غیر ملک کی زبان کے سبب لوگوں سے حقیقت چھپی رہی ہے۔ عرب کے لوگ تو ان باتوں کو خوب سمجھتے تھے۔ مگر ہمارے ملک میں غیر زبان کی وجہ سے بہت سی حقیقتیں مخفی رہی ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے اتنی دفعہ استغفار کیا۔ سو تسبیح یا ہزار تسبیح پڑھی مگر جو استغفار کا مطلب اور معنی پوچھوتو بس کچھ نہیں ہکا بکا رہ جاویں گے انسان کو چاہیئے کہ حقیقی طور پر دل ہی دل میں معافی مانگتا رہے کہ وہ معاصی اور جرائم جو مجھ سے سرزد ہو چکے ہیں اُن کی سزا نہ بھگتنی پڑے اور آئندہ دل ہی دل میں ہر وقت خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرتارہے کہ آئندہ نیک کام کرنے کی توفیق دے اور معصیت سے بچائے رکھے۔ خوب یاد رکھو کہ لفظوں سے کچھ کام نہیں بنے گا۔ اپنی زبان میں بھی استغفار ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ پچھلے گناہوں سے محفوظ رکھے اور نیکی کی توفیق دے اور یہی حقیقی استغفار ہے ۔ کچھ ضرورت نہیں کہ یونہی استغفراللہ استغفراللہ کہتا پھر ے اور دل کو خبر تک نہ ہو۔ یاد رکھو کہ خدا تک وہی بات پہنچتی ہے جو دل سے نکلتی ہے اپنی زبان میں ہی خدا تعالیٰ سے بہت دُعائیں مانگنی چاہئیں۔ اس سے دل پر بھی اثر ہوتاہے ۔ زبان تو سرف دل کی شہادت دیتی ہے۔ اگر دل میں جوش پیدا ہو اور زبان بھی ساتھ مل جائے تو اچھی بات ہے ۔ بغیر دل کے صرف زبانی دعائیں عبث ہیں ہاں دل کی دُعائیں اصلی دُعائیں ہوتی ہیں۔ جب قبل از وقت بلا انسان اپنے دل ہی دل میں خدا تعالیٰ سے دُعائیں مانگتا رہتہاے اور استغفار کرتا رہتا ہے تو پھر خدا وند رحیم وکریم ہے وہ بلا ٹل جاتی ہے ۔ لیکن جب بلا نازل ہو جاتی ہے پھر نہیں ٹلا کرتی۔ بلا کے نازل ہونے سے پہلے دُعائیں کرتے رہنا چاہیئے۔ اور بہت استغفار کرنا چاہئے ۔ اس طرح سے خدا بلا کے وقت محفوظ رکھتاہے۔ ہماری جماعت کو چاہیئے کہ کوئی امتیازی بات بھی دکھائے۔ اگر کوئی شخص بیعت کرکے جاتا ہے اور کوئی