انبیاء کا ہی گروہ ایسا گروہ ہوتاہے کہ وہ بے سلسلہ چلتے ہی نہیں۔ جو لوگ انبیاء کی زندگی میں فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیںاور عاقبت کی کچھ فکر نہیں کرتے اور راستبازوں پر حملے کرتے ہیں ایسوں ہی کی نسبت خداتعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَا یَخَافُ عُقْبٰھَااس سے مراد یہ ہے کہ جب موذی بے ایمان کو اللہ کریم مارتا ہے تو پھر کچھ پروا نہیں رکھتا کہ اس کے عیال اطفال کا گذارہ کس طرح ہوگا اور اس کے پسماندہ کیسی حالت میں بسر کریں گے ۔ ستاروں کا ٹوٹنا :۔ ایک شخص نے ستاروں کے ٹوٹنے کی نسبت سوال کیا ۔فرمایا:۔ جہاں تک پتہ لگ سکتاہے ۔ مفسرین یہی لکھتے ہیں کہ پیغمبرخدا صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ سے پہلے بہت ستارے ٹوٹے تھے اور یہاں بھی شاید ۱۸۸۵ئ؁ میں ہماری دعویٰ سے پہلے بہت سے ستارے ٹوٹے تھے۔ ایک لشکر کا لشکر اس طرف سے اُس طرف چلا جاتا تھااور اُس طرف سے اس طرف چلا آتا تھا۔ وَ النَّجْمِ اِذَا ھَوٰی ( النجم :۲) کا بھی یہی مطلب ہے ۔ جب کبھی خدا تعالیٰ کا کوئی نشان زمین پر ظاہر ہونیوالا ہوتاہے تو اس سے پہلے آسمان پر کچھ آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے مفسِّر اور اہل کشف بھی یہی بیان کرتے ہیں اور قرآن شریف میں بھی یہی لکھا ہے ۔ مجھے ایک خط آیا تھا کہ ایک ستارہ ٹوٹا جس سے بہت روشنی ہوگئی اور پھر ایسی خطر ناک آواز آئی کہ لوگ دہشت ناک ہوگئے اور بڑا خوف ہوا۔ اور پھر نہیں معلوم کہ آئندہ بھی کیا کیا ہونے والا ہے۔ آئے دن نئے نئے حوادث ہوتے رہتے ہیں۔ کوئی سال ایسا نہیں گذرتا جس میں کوئی نہ کوئی حادثہ واقع نہ ہو۔ ستاروں کا ٹوٹنا ظاہر کرتاہے کہ زمین پر بھی اب کچھ نشانات ظاہر ہونے والے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ نے بھی مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ میں بہت سے عجیب نشان ظاہر کروں گا کچھ اول میں اور کچھ آخر میں زلزلہ کی خبر بھی اس نے دی ہے ۔گذشتہ کی نسبت زیادہ سخت طاعون پڑنے کی بھی اطلاع دی ہے ۔ معلوم نہیں کہ اس سال وہ خطرناک طاعون پڑے گی یاآئندہ سال میں مگر وہ خطرناک بہت ہوگی۔ خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کا گُر:۔ اس پر سیّد نادر علی شاہ صاحب نے عرض کی کہ ایسے موقعہ پر کیا کرنا چاہیئے؟ فرمایا:۔ توبہ استغفار کرنی چاہیئے ۔ بغیر توبہ استغفار کے انسان کر ہی کیا سکتاہے ۔ سب نبیوں نے یہی کہا ہے کہ اگر توبہ استغفار کرو گے تو خدا بخش دے گا۔ سو نماز یں پڑھو اور آئندہ گناہوں سے بچنے کے لیے خدا تعالیٰ سے مدد چاہو اور پچھلے گناہوں کی معافی مانگو اور بار بار استغفار کرو تاکہ جو قوت گناہ کی انسان کی فطرت میں ہے وہ ظہور میں نہ آوے ۔ انسان کی فطرت میں دو طرح کا ملکہ پایا جاتاہے ۔ ایک تو کسبِ خیرات اور نیک کاموں کے کرنے کی قوت ہے