اور مصیبتیں موجودہیں۔ بے خوف اور نڈر ہونے کا مقام نہیں۔ اس دنیا میں بھی جہنم ہو سکتاہے اور بڑے بڑے مصائب آسکتے ہیں ۔ خوب یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی کسی کی مصیبت میں کام نہیں آسکتا۔ اور کوئی شریک ہمدردی نہیں کر سکتاجب تک خدا خود دستگیری نہ کرے اور اپنے فضل سے آپ اس مصیبت کو دور نہ کرے۔ اسی واسطے ہر ایک کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پوشیدہ علاقہ رکھے۔ جو شخص جرات کے ساتھ گناہ ، فسق وفجور اور معصیت میں مبتلا ہوتاہے وہ خطرناک حالت میں ہوتاہے۔ خدا تعالیٰ کا عذاب اس کی تاک میں ہوتاہے۔ اگر بار بار اللہ کریم کا رحم چاہتے ہوتو تقویٰ اختیار کرو اور وہ سب باتیں جو خداتعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہیں چھوڑ دو۔ جب تک خوفِ الٰہی کی حالت نہ ہو تب تک حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتا۔ کوشش کرو کہ متقی بن جائو۔ جب وہ لوگ ہلاک ہونے لگتے ہیں جوتقویٰ اختیار نہیں کرتے تب وہ لوگ بچالیے جاتے ہیں جو متقی ہوتے ہیں۔ ایسے وقت اُن کی نافرمانی انہیں ہلاک کر دیتی ہے اور ان کا تقویٰ انہیں بچا لیتاہے ۔ انسان اپنی چالاکیوں شرارتوں اور عذاریوں کے ساتھ اگر بچنا چاہے تو ہر گز نہیں بچ سکتا۔ کوئی انسان بھی نہ اپنی جان کی حفاظت کر سکتاہے نہ مال اور اولاد کی حفاظت کرسکتاہے اور نہ ہی کوئی اور کامیابی حاصل کر سکتاہے ۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ پوشید ہ طور پر ضرور تعلق رکھنا چاہیئے اور پھر اس تعلق کو محفوظ رکھنا چاہیئے۔ عقلمند انسان وہی ہے جو اس تعلق کو محفوظ رکھتاہے اور جو اس تعلق کو محفوظ نہیں رکھتا وہ بے وقوف ہے جو اپنی چترائی پر نازاں ہے وہ ہلاک کیا جائے گا اور کبھی بامراد اور کامیاب نہیں ہوگا۔ دیکھو یہ زمین و آسمان اورجو کچھ اُن میں نظر آرہا ہے اتنا بڑا کارخانہ کیا یہ خدا تعالیٰ کے پوشیدہ ہاتھ کے سوائے چل سکتاہے ؟ ہرگز نہیں ۔ یاد رکھو جو امن کی حالت میں ڈرتا ہے وہ خوف کی حالت میں بچایا جاتاہے اور جو خوف کی حالت میں ڈرتا ہے ۔ تو وہ کوئی خوبی کی بات نہیں۔ ایسے موقعہ پر تو کافر مشرک بیدین بھی ڈرا کرتے ہیں۔ فرعون نے بھی ایسے موقعہ پر ڈر کر کہا تھا اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُؤآ اِسْرَائِ یْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ( یونس: ۹۱)اس سے صرف اتنا فائدہ اسے ہوا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرا بدن تو ہم بچالیںگے مگر تیری جان کو اب نہیں بچائیں گے آخر خدا تعالیٰ نے اس کے بدن کو ایک کنارے پر لگادیا۔ ایک چھوٹے سے قد کا وہ آدمی تھا۔ غرض جب گناہ اور معصیت کی طرف انسان ترقی کرتاہے توپھر لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ( الاعراف :۳۵) والا معاملہ ہوتا ہے ۔ جب اجل کی بلا آجاتی ہے تو پھر آگے پیچھے نہیں ہواکرتی۔ انسان کو چاہیئے کہ پہلے ہی سے خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھے۔ ؎ خیال زلف تُوبستن نہ کارِ خاماں است کہ زیر سلسلہ رفتن طریق عیاری است