مگر یاد رکھنا چاہئے کہ انسان ایک نہایت ہی کمزور ہستی ہے ۔ ایک ہی بیماری میں باریک در باریک اور بیماریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ انسان غلطی سے کب تک بچ سکتاہے انسان بڑا کمزور ہے ۔ غلطی ہو ہی جاتی ہے۔ اکثر اوقات تشخیص میںہی غلطی ہو جاتی ہے اور اگر تشخیص میں نہیں ہوتی تو پھر دوا میں ہو جاتی ہے۔ غرض انسان نہایت کمزور ہستی ہے غلطی سے خود بخود نہیں بچ سکتا۔ خدا تعالیٰ کا فضل ہی چاہئے ۔ اس کے فضل کے بغیر انسان کچھ چیز نہیں۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دافع بلیات تو صرف خدا تعالیٰ ہے۔ ہندو تو پتھروں کی پوجا کرتے ہیں۔ کبھی نہ کبھی خیال آہی جاتاہوگا کہ اپنے ہی ہاتھوں سے انہیں بنایا ہے اور پھر انہیں کی پوجا کی جاتی ہے۔ مگر اسباب کی پرستش کرنے والے ان سے بھی زیادہ مشرک ہوتے ہیں۔ ہاں اسباب کا تلاش کرنا منع نہیں۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ جب جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اپنے کام کاج کی تلاش میں لگ جائو اور اللہ کریم کا فضل مانگتے رہو۔ اسباب پر بھروسہ مت کرو۔ مومن کو چاہئے کہ بظاہر اسباب تلاش کرے اور نظر اللہ تعالیٰ پر رکھے۔ علم طب پہلے یونانیوں کے پاس تھا۔ پھر اُن سے مسلمانوں کے ہاتھ آیا تو انہو ں نے ہر نسخہ سے پہلے ہو الشافی لکھنا شروع کر دیا اور یہ طریق مسلمانوں کے سوا کسی نے بھی اختیار نہیں کیا۔ بڑا سعید طبیب وہ ہے جو ایک طرف تو دوا کرے اور دوسری طرف دُعا میں مشغول رہے اور یہ سمجھے کہ شفا صرف خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ دوسروں پر رحم کرو تا تم پر رحم کیا جاوے: فرمایا:۔ شیخ سعدیؒ لکھتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو ناروا کی بیماری تھی۔ اس نے کہا کہ میرے لئے دُعا کریں کہ اللہ کریم مجھے شفا بخشے تو میں نے جواب دیا کہ آپ کے جیل خانہ میں ہزاروں بے گناہ قید ہوں گے ان کی بددعائوں کے مقابلہ میں میری دُعا کب سُنی جاسکتی ہے ۔ تب اسنے قیدیوں کو رہا کر دیا اور پھر وہ تندرست ہوگیا۔ غرض خدا کے بندوں پر اگر رحم کیا جاوے تو خدا بھی رحم کرتاہے۔ جو لوگ دوسروں پر رحم کرتے ہیں ان پر اللہ اور اس کے رسول کو بھی رحم آجاتاہے ۔ دوسروں کے ساتھ بداخلاقی سے پیش آنا اور بے جا طور پر مال اکٹھا کرنا اور اسباب پر ہی گرے رہنا بہت بُری بات ہے۔ تقویٰ اختیار کریں:۔ فرمایا:۔ گواعادہ کلام کا ہوتاہے مگر چونکہ غفلت لگی ہوئی ہے ۔ ایک طرف وعظ و نصیحت سُنی جاتی ہے اور دل میں تقویٰ حاصل کرنے کے لیے جوش پیدا ہوتا ہے مگر پھر غفلت ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہماری جماعت کو یہ بات بہت ہی یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی حالت میں نہ بھلایا جاوے۔ ہر وقت اسی سے مدد مانگتے رہنا چاہیئے۔ اس کے بغیر انسان کچھ چیز نہیں۔ خوب یاد رکھو کہ وہ ایک دم میں فنا کر سکتاہے۔ طرح طرح کے دُکھ