۳۱؍مئی ۱۹۰۶ئ
ایک رویا ۔ فرمایا:
تین چار روز ہوئے میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ بہت سے چھوٹے زنبور ہیں اور میں ان کو مارتاہوں۔ اس سے مراد یہی مخالف دشمن ہیں جو احمق ہیں اور غوغا مچاتے ہیں۔
مخالفین کی تباہی دلائل کے ذریعہ ہوگی۔
یہ بھی حکمتِ الٰہی ہے کہ ایک طرف توخدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ جوش دیا کہ خلقت کو ہدایت دیں اور ان کو راہ راست پر لاویں اور دوسری طرف ابو جہل جیسوں کو جوش دیا کہ مخالفت میں شورو غوغا مچائیں۔ مذکورہ بالا رویا کے مطابق مخالفوں کی تباہی بذریعہ دلائل اور بذریعہ نشانات الٰہی کے ہے۔ دشمن خود بخود ہلاک ہو رہے ہیں کیونکہ یہ زمانہ تلوار کا نہیں۔ خدا تعالیٰ آپ سامان پیدا کرتاہے ۔
رفعِ درجات کے لئے ابتلاء ضروری ہیں:۔
حیدر آباد کے مولوی محمد سعید صاحب نے اپنے ابتلائوں کا ذکر کیا۔ فرمایا:
جب تک انسان ابتلاء کی برداشت نہ کرے ۔ خدا تعالیٰ کے پاس اس کو درجہ نہیں مل سکتا۔
روحانی انقلاب کیلئے خدا تعالیٰ کے فضل کی ضرورت ہے:۔
فرمایا:
ہم غریب اور ضعیف ہیں نہ تلوار ہمارے ہاتھ میں ہے اورنہ ہم اس امر کے واسطے مامور ہیں کہ تلوار چلائیں اور نہ ہمارے پاس جنگ کے سامان ہیں۔ لیکن ہماری تلوار آسمان پر ہے۔ دُنیا میں جس عظیم الشان انقلاب کو ہم چاہتے ہیں کہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف جھکیں اور اس کی ہستی پر ایمان لاویں وہ ہمارے اختیار میں نہیں۔ کتابوں کو لکھنے سے بھی کچھ نہیں ہوتا۔ گوایک ہرے بھرے باغ کی طرح دلائل کا مجموعہ ہم نے اکٹھا کیا ہے ، لیکن اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا۔ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے کچھ کرے گا۔ میرا قلب محسوس کرتاہے کہ اس وقت دُنیا ایسی سخت غفلت میں پڑی ہوئی ہے کہ بغیر الیم اور شدید عذاب