کے لیے سبقت نہیں کی تھی۔ بلکہ ان لوگوں نے خود سبقت کی تھی۔ خون کئے۔ ایذائیں دیں۔ تیرہ برس تک طرح طرح کے دکھ دئیے آخر جب صحابہ کرام ؓ سخت مظلوم ہوگئے تب اللہ تعالیٰ نے بدلہ لینے کی اجازت دی جیسے فرمایا اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا(الحج :۴۰) وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ (البقرہ:۱۹۱)اس زمانہ کے لوگ نہایت وحشی اور درندے تھے ۔ خون کرتے تھے ۔ جنگ کرتے تھے ۔ طرح طرح کے ظلم اور دکھ دیتے تھے۔ ڈاکوئوں اور لیٹروں کی طرح مار دھاڑ کرتے پھرتے تھے اور ناحق کی ایذا دہی اور خونریزی پرکمر باندھے ہوئے تھے۔ خدا تعالیٰ نے فیصلہ دیا کہ ایسے ظالموں کو سزا دینے کا اذن دیا جاتا ہے اور یہ ظلم نہیں بلکہ عین حق اور انصاف ہے۔
آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کے لیے انہوں نے بڑی بڑی کوششیں کیں۔ طرح طرح کے منصوبے کئے یہاں تک کہ ہجرت کرنی پڑی مگر پھر بھی انہوں نے آنحضرت ﷺ کا مدینہ تک تعاقب کیا اور خون کرنے کے درپے ہوئے۔ غرض جب ہمارے نبی کریم ﷺ نے مدت تک صبر کیا اور مدت تک تکلیف اٹھائی تب خدا تعالیٰ نے فیصلہ دیا کہ جنہوں نے تم لوگوں پر ظلم کئے اور تکلیفیں دیں ان کو سزا دینے کا اذن دیا جاتا ہے اور پھر بھی یہ فرما ہی دیا کہ اگر وہ صلح پرآمادہ ہوویں تو تم صلح کرلو۔ ہمارے نبی کریم ﷺ تو یتیم ‘غریب‘ بیکس پیدا ہوئے تھے وہ لڑائیوں کو کب پسند کرسکتے تھے۱؎۔
۱۴؍ ستمبر ۱۹۰۷ئ
(بوقت ظہر)
ھوالشافی :۔
سید نادر علی شاہ صاحب سب رجسٹرارئیس چکوال کے بیعت کرنے لینے کے بعد ذکر امراض پر فرمایا:۔
قبرستان میں جتنے لوگ دفنائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اصل میں یہ سب طبیبوں کی غلطیوں کا ہی نتیجہ ہے۔ بہت کم آدمی ہوں گے جو عمر طبعی تک پہنچے ہوں۔ عمر طبعی عموماً سو اسی سال تک سمجھی جاتی ہے۔
حدیث شریف میں لکھا ہے ۔ مَامِنْ دَائٍ اِلَّا لَہُ دَوَائٌ یعنی کوئی بیماری نہیں جس کی دوائی موجود نہ ہو اگر اصلی دوا اورعلاج ہوتارہے تو عمر طبعی سے پہلے انسان مرے کیوں؟