اب عبدالحکیم جو میری نسبت ایسا ویسا لکھتا ہے تو یہ خود پیشگوئیوں کو پورا کررہا ہے۔ گالی گلوچ نکالنے اور طرح طرح کے بہتان باندھنے سے یہ مجھ کو جھٹلاتا نہیں بلکہ تصدیق کرتا ہے اور ان پیشگوئیوں کو پورا کرتا ہے جن میں لکھا ہے کہ اس زمانہ کے علماء مسیح کی بڑی مخالفت کریں گے اور اس کو دین کے تباہ کرنے والا اور مفتری قراردیں گے۱؎۔ ۱۲؍ستمبر ۱۹۰۷ئ؁ (بوقت ظہر) مسیح موعودؑ کے لیے علامات کا پورا ہونا:۔ فرمایا:۔ سول اخبارمیں لکھا ہے کہ روز بروز اب اونٹ بیکار ہوتے جاتے ہیں۔ کیسی بین طورپر قرآن شریف اور حدیث میں لکھا ہے۔ وَلْیُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰٰی عَلَیْھَااور قرآن شریف میں وَاِذَاالْعِشَارُ عُطِّلَتْ(التکویر :۵) لکھا ہے ۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی مامور من اللہ مبعوث ہوتا ہے تو زمانہ میں جتنی بڑی بڑی کاروائیاں ہوں اور بڑے بڑے انقلاب ظہور میں آویں تو وہ سب اسی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔ کسر صلیب اور وضع حرب کی حقیقت:۔ آج کل جنگ وجدال کو دور کرنے کے لیے جو بڑے بڑے عہدوپیمان ہو رہے ہیں۔ اور زمانہ خود بخود صلح اور امن کی طرف رجوع کرتا جاتا ہے اس پر فرمایا کہ:۔ یَضَعُ الْحَرْبَ اور یَکْسِرُ الصَّلِیْبَسے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ ایک شخص ہوگا اور وہ لڑائیوں میں جا جا کے صلح کراتا پھرے گا اور دو دو چار چار آنہ کی صلیبوں کو توڑتا پھرے گا۔ کیوں کہ اس طرح سے اگر دو چار توڑیں تو سینکڑوں اور بن گئیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ارادہ الہٰی سے کوئی ہوا ہی ایسی چلے گی اور ایسے ایسے اسباب اور وسائل پیدا ہوجائیں گے کہ لڑائی دور ہوجائے گی اور صلیب پرستی جاتی رہے گی۔ آنحضرت ﷺ کی جنگیں دفاعی تھیں:۔ فرمایا:۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے لڑائیوں