رحمۃٌ للعالمین ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ہم عبدالحکیم سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا کبھی ایسا بھی اتفاق ہوا ہے کہ ایسا شخص بیس برس
تک دجال کا مرید رہا ہو ۔ یہ اس کی کونسی شامت اعمال ہے اور کون سے برے کرم اس نے کئے جو دجال کی بیعت میں رہا۔ اس قدر ذلت اور رسوائی اٹھائی کہ بیس برس تک شیطان کا مرید رہا ۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی اس کی نظیر تو پیش کرو کہ ایک شخص مسیح بھی ہو‘رسول بھی ہواورپھر بیس برس تک دجال کی بیعت میں رہا ہو۔
ایک نکتہ :۔
ڈاکٹر عبدالحکیم نے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اور بابو محمد افضل مرحوم کی موت کا باعث اپنی تفسیر کی مخالفت قراردیا ہے۔ اس پر منشی احمد دین ساحب اپیل نویس گوجرانوالہ نے ایک عجیب نکتہ بیان کیا کہ ڈاکٹر صاحب خود بھی تو اپنی تفسیر کے مخالف ہوگئے ہیں۔
بعد نماز ظہر
ڈاکٹر عبدالحکیم کی غلطی:۔
حضرت حکیم الامت سلمہ ربہٗ نے مرتد ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کے خط کا ذکر کیا جس میں وہ لکھتا ہے کہ تمام انبیاء سے غلطیاں ہوتی رہیں ایسے ہی مجھ سے بھی ہوگئیں۔ حضرت نے فرمایا:۔
مگرایسی غلطیاں کہ بیس برس تک دجال کے مرید بنے رہنا ایسی ذلت اور رسوائی کے نصیب ہوئی کہ بیس برس تک شیطان کا مرید رہا اور جسے دجال سمجھتا تھا اس کی بیعت رہا اور پھر خود مسیح ہونے دعویٰ کردیا۔
حضرت اقدس نے فرمایا:۔
اس خط میں عبدالحکیم گویا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ میرا دعویٰ خط ہے میں وہ مسیح نہیں ہوں جس کی نسبت قرآن شریف اور احادیث میں وعدہ ہے ۔ چوںکہ وہ مسیح ناصری کی وفات کا اقرار کرتا ہے اس لیے کسی دوسرے مسیح کی آمد کا ہی قائل ہوگا۔ مگر جب وہ ایسے زمانہ میں جو مقررہ علامتوں کے ساتھ پکارتا ہے نہ آیا تو پھر بتلائو وہ کس زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ چودہویں صدی میں سے بھی پچیس برس گذرگئے ۔ نواب صدیق حسن خاں نے بھی لکھا ہے کہ مسیح صدی کے سر پر آئے گا۔ اگر ابھی تک وہ مسیح نہیں آیا تو بقول اس کے یہ صدی ہی خالی گئی ۔ سب نشانات پورے ہوگئے مگر مسیح ابھی تک نہ آیا ۔ احادیث میں لکھا ہے کہ جب مسیح آئے گا تو علماء زمانہ اس کی بہت مخالفت کریں گے کیوں کہ وہ ان کی حدیثوں کے خلاف کرے گا۔ نواب صدیق حسن خاں نے بھی لکھا ہے کہ مولوی لوگ اس پر تکفیر کے فتوے لکھیں گے اور کہیں گے کہ یہ دین اسلام کو تباہ کررہا ہے۔