مداہنہ بری مرض ہے :۔
کمبخت مکہ والے لوگ بھی مداہنہ کیا کرتے تھے۔ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا (البقرۃ:۱۱) کے یہی معنے ہیں۔ کمبخت خبیث جو مداہنہ کا گند اپنے اندر رکھتے ہیں ان کا گند نکالنا اچھا ہی ہوتا ہے۔
نشان بڑی چیز ہے:۔
ساری جماعت کو یادرکھنا چاہیئے کہ جن باتوں کا اعتراض عیسائی‘ آریہ اور دوسرے مخالفین اس وقت تک اسلام پر کرتے ہیں اور بے سمجھی سے الزام لگاتے ہیں اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ پھر انہیں باتوں کو از سر نو تازہ کیا جاوے۔ کیا خدا تعالیٰ کے پاس اپنے رسول کی نصرت کے لیے اور کوئی ہتھیار نہیں۔ ان ہتھیاروں کی چوٹ تو جسم پر لگتی تھی مگر اس جگہ قلب پر لگتی ہے۔ ایک ہی نشان ہزاروں اعتراضوں کو دور کرسکتا ہے۔
عدم تصنع اور سادگی کا ثبوت:۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے متعلق فرمایا کہ:۔
وہ ہمارا ایک پرانا تقلیدی خیال تھا اور رسمی طورپر براہین احمدیہ میں لکھا گیا تھا اور یہ بات کہ مسیح ناصر فوت ہوگیا ہے اور آنے والا مسیح میں ہوں خدا تعالیٰ کی وحی سے ہے اور خدا تعالیٰ کا الہام ہے ۔ جس براہین میں یہ لکھا ہے کہ عیسیٰ آسمان پر چلاگیا۔ اسی میں یہ بھی لکھا ہے اور واضح طورپر لکھا ہے کہ میں مسیح ہوں۔جیسے یَا عِیْسیٰ ٓاِنِّیْ مُتَوَ فِّیْکَ (آل عمران :۵۶ ) وغیرہ ۔ اگر یہ انسانی کاروبار اور بناوٹی منصوبہ ہوتا تو یہ ظاہراً تناقض کیوں ہوتا؟ اگر تقویٰ ہو اور تھوڑا بہت انصاف ہو تو ایک طرف پرانا رسمی عقیدہ لکھ دینا اور دوسری طرف کل الہامات بھی لکھ دینا جو اس عقیدہ کے صریح مخالف ہیں ایک ایسی بات ہے جس سے انسان عدم تصنع اور سادگی کا استدلال کرسکتا ہے۔ دیکھو کل الہام مخالف ہیں جیسے یَا عِیْسیٰ ٓاِنِّیْ مُتَوَ فِّیْک وَرَافِعُکَ ۔ اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قَرِیْباً مِّنَ الْقَادِیَان۔ وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنَاہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ۔ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ وَکَانَ اَمْرُاللّٰہِ مَفْعُوْلاً۔
بعض انبیاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یہ عجیب حکمت ہوتی ہے کہ ان سے ذہول سرزد ہوجاتا ہے اور وہ ذہول بھی ایک حکمت موجود تھا اس وقت دعویٰ نہ کیا اور اب کردیا ۔ یہ بناوٹ نہیں ہوسکتی۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خاں کا دعویٰ:۔
حضرت اقدس نے فرمایا:۔
جوشخص اپنے آپ کو مسیح سمجھتا ہے رسول سمجھتاہے