اس کے واسطے مفید ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں قاعدین پر مجاہدین کو فضیلت دی ہے۔ مجاہدین دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو اپنے اوپر خدا تعالیٰ کی راہ میں مشکل کام ڈال لیتے ہیں اور اس کی تکالیف کو برداشت کرتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جن پر قضاء وقدر سے مشکلات اور تکالیف وارد ہوتی ہیں اور وہ صبر اور تحمل کے ساتھ ان مشکلات کو برداشت کرتے ہیں۔ جو شخص رات دن اپنے کھانے پینے میں مصروف رہتے ہیں اور اسی طرح ان کی زندگی گذر جاتی ہے اور ان پر کوئی تلخی نہیںآتی کہ وہ صبر کریں تو وہ قاعدین میں داخل ہیں۔ جس زمانہ کو انسان بسبب تلخی کے برا زمانہ کہتا ہے اوراس کو ناگوار جانتا ہے اور نہیں چاہتا کہ ویسا زمانہ اس پر آوے دراصل وہی زمانہ اس کے واسطے اچھا ہوتا ہے بشرطیکہ صبر اور تحمل سے بسر کرے۔ حسن بصری ؒ کا ذکر ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا کہ تم کو غم کب ہوتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ جب کوئی غم نہ ہو۔ سوچ کردیکھ لیاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب تلخ زندگی مصائب شدائد کی انسان پر پڑتی ہے اور وہ ان کو برداشت کرتا ہے تو اس کے بعد پوشیدہ انعامات وارد ہوتے ہیں ۔ دنیا کی وضع ہی کچھ ایسی بنی ہے کہ اول تکلیف ہوتی ہے تو پھر آرام حاصل ہوتا ہے ۔ اچھی طرح کھانے کا مزا اسی وقت ہوتا ہے جب کہ انسان بھوک کی شدت کو برداشت کرچکا ہو جو مزا ٹھنڈے پانی میں روزے دار کو حاصل ہوتا ہے وہ دوسرے کو کہاں نصیب ہوسکتا ہے ؟معمولی طور پر ہر روز کھایا جاتا ہے مگر اس میں وہ لطف نہیں جو لطف اس کھانے میں ہوتا ہے جو مثلاً سفر کے بعد بھوک کی شدت سے حاصل ہوتا ہے۔ وضع دنیا کی ایسی واقع ہوئی ہے کہ درد کے بعد ہی راحت حاصل ہوتی ہے۱؎۔ ۱۱؍ستمبر ۱۹۰۷ئ؁ (قبل نماز ظہر) فطرت مستقل ہادی نہیں:۔ فطرت ایسی چیز نہیں جو مستقل طورپر ہادی ہوسکے کیوں کہ وہ شیطان کے قائم مقام مفصل بھی تو ہوجاتی ہے۔ فطرت میں توہمات کے داخل ہوجانے سے جو بعض نقص پیدا ہوجاتے ہیں اسی وجہ سے کُلُّ حِزْبٍ بَمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ(الروم:۳۲) کہا گیا ہے۔