کے لیے خوراک مہیا کی ہے ویساہی ایسے انسانوں کے لیے جن کی حالتیں بہت گری ہوئی ہیں اور جو اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتے ۔ طلاق کا مسئلہ بنا دیا ہے کہ وہ اس طرح آفات اور مصیبتوں سے بچ جاویں جو طلاق کے نہ ہونے کی صورت میں پیش آئیں یا بعض اوقات دوسرے لوگوں کو بھی ایسی صورتیں پیش آجاتی ہیں اور ایسے واقعات ہوجاتے ہیں کہ سوائے طلاق کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ پس اسلام نے جو کہ تمام مسائل پر حاوی ہے یہ مسئلہ طلاق کا بھی رکھ دیا ہے اور ساتھ ہی اس کو مکروہ بھی قرار دیا ہے۔ (منقول از تشحیذ الاذہان) رازق اللہ تعالیٰ ہے:۔ فرمایا:۔ اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکل کرنے والے شخص کے لیے رزق پہنچاتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکل کرے میں اس کے لیے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔ پس چاہیئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔ بیوی پر ظلم کا نتیجہ:۔ ایک صاحب کا ذکر تھا ۔فرمایا:۔ ان کے مجھ کو بہت سے خطوط آئے ہیں کہ میں اکثر بیمار رہتا ہوں اور بہت کمزور ہوگیا ہوں یہاں تک کہ میں اپنا کام بھی اچھی طرح نہیں کرسکتا اور اس لیے مجبوراً مجھے ایک لمبی رخصت لینی پڑے گی گر اصل بات یہ ہے کہ ظلم کا نتیجہ ہمیشہ خراب ہوتا ہے۔ وہ اپنی پہلی بیوی پر بہت کچھ سختی کرتے ہیں اور یہ کام خدا تعالیٰ کو ناپسند ہے ۔ بہت دفعہ مولوی نورالدین صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے ان کو نصیحت کی ۔ مگر وہ سمجھتے نہیں۔ میں نے کنایتاً کئی دفعہ ان کو جتایا ہے مگر انہوں نے کوئی خیال نہیں کیا ۔ مگراس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔ ضرور ہے کہ وہ کسی دن اپنے کام سے پچھتائیں اور میری بات کو سمجھیں۱؎ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۰۷ئ؁ (قبل نماز ظہر) ابتلائوں کی برکات:۔ فرمایا:۔ اصل میں دیکھا گیا ہے کہ ابتلاء اور تکالیف کا زمانہ جو انسان پر آتا ہے وہ