بال بچوں پر اپنے قریبیوں پر رحم کرتا ہے۔ کہ وہ سب ایک کے لیے بچائے جاسکتے ہیں۔ ایسا ہی جو غفلت کرتا ہے تو نہ صرف اپنے لیے برا کرتا ہے بلکہ اپنے تمام کنبے کا بدخواہ ہے۔ یہ بڑا نازک وقت ہے۔ خدا تعالیٰ کے غضب کی آگ مشتعل ہے۔ نہیں معلوم کہ آئندہ موسم طاعون میں کیا ہونے والا ہے۔ اس کا کلام مجھے اطلاع دیتا ہے کہ آگے سے بڑھ کر مری پڑے گی۔ پس مومنو ۔ قُوْٓااَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَاراً(التحریم :۷)دعا میں لگے رہو کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لَادُعَآؤکُمْ ( الفرقان ۷۸) ایک انسان جو دعا نہیں کرتا ۔اس میں اور چارپائے میں کچھ فرق نہیں۔ایسے لوگوں کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے یَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّھُمْ یعنی چارپائیوں کی زندگی بسر کرتے ہیں اور جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔پس تمہاری بیعت کا اقرار اگر زبان تک محدود رہا تو یہ بیعت کچھ فائدہ نہ پہنچائے گی۔ چاہیئے کہ تمہارے اعمال تمہارے احمدی ہونے پر گواہی دیں۔ میں ہرگز یہ بات نہیں مان سکتا کہ خدا تعالیٰ کا عذاب اس شخص پر وارد ہو جس کا معاملہ خدا تعالیٰ سے صاف ہو۔ خدا تعالیٰ اسے ذلیل نہیں کرتا جو اس کی راہ میں ذلت اور عاجزی اختیار کرے۔ یہ سچی اور صحیح بات ہے۔ مرنا تو بے شک سب نے ہے مگر یہ موتیں جو آج کل ہو رہی ہیں یہ تو ذلت کی موتیں ہیں۔ خدا تعالیٰ اس سے محفوظ رکھے کہ ایک ابھی دفن نہیں ہوا تھا کہ دوسرا جنازہ تیار ہے۔ پس راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو۔ کوٹھڑی کے دروازے بند کر کے تنہائی میں دعا کرو کہ تم پر رحم کیا جائے۔ اپنا معاملہ صاف رکھو خدا کا فضل تمہارے شامل حال ہو جو کام کرو نفسانی غرض سے الگ ہو کر کرو تا خدا تعالیٰ کے حضور اجر پائو۔ حضرت علیؓ کی نسبت روایت ہے کہ ایک کافر نے جس پر قابو پاچکے تھے ان کے منہ پر تھوکا تو آپ نے چھوڑ دیا۔ اس نے پوچھا یہ کیوں؟ تو فرمایا اب نفس کی بات درمیان میں آگئی۔ اس نے جب دیکھا کہ یہ لوگ نفسانی کا موں سے اس قدر الگ ہیں تو مسلمان ہوگیا۔ ایسے ایسے عملی نمونوں سے وہ کام ہوسکتا ہے جو کئی تقریریں اور وعظ نہیں کرتے۱؎۔ بلا تاریخ طلاق:۔ فرمایا:۔ جائز چیزوں میں سے سب سے زیادہ برا خدا اور اس کے رسول نے طلاق کو قراردیا ہے اور یہ صرف ایسے موقعوں کے لیے رکھی گئی ہے جب کہ اشد ضرورت ہو۔ جیسا کہ خداتعالیٰ نے جورب ہے کہ سانپوں اور بچھوئوں