۵؍ستمبر ۱۹۰۷ئ
تمہارے اعمال تمہارے احمدی ہونے پر گواہی دیں:۔
آج صبح ۹ بجے حضرت روح اللہ کے دست مبارک پر دس بارہ آدمیوں نے دارالبرکات کے صحن میں بیعت کی ۔ حضور نے ایک لمبی تقریر جس کاخلاصہ عرض ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہُ ۔اب جو تم لوگوں نے بیعت کی تو اب خدا تعالیٰ سے نیا حساب شروع ہوا ہے۔ پہلے گناہ صدق واخلاص کے ساتھ بیعت کرنے پر بخشے جاتے ہیں۔ اب ہرایک کا اختیار ہے کہ اپنے لیے بہشت بنالے یا جہنم۔
انسان پر دو قسم کے حقوق ہیں۔ ایک تو اللہ کے دوسرے عباد کے ۔ پہلے میں تو اسی وقت نقصان ہوتا ہے۔ جب دیدہ دانستہ کسی امر اللہ کی مخالفت قولی یا عملی کی جائے مگر دوسرے حقوق کی نسبت بہت کچھ بچ بچ کے رہنے کا مقام ہے۔ کئی چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جنہیں انسان بعض اوقات سمجھتا بھی نہیں۔ ہماری جماعت کو تو ایسا نمونہ دکھانا چاہیئے کہ دشمن پکاراٹھیں کہ گویہ ہمارے مخالف ہیں مگر ہیں ہم سے اچھے۔ اپنی عملی حالت کو ایسا درست رکھو کہ دشمن بھی تمہاری نیکی خدا ترسی اور اتقاء کے قائل ہوجائیں۔
یہ بھی یادرکھو کہ خداتعالیٰ کی نظر جذر قلب تک پہنچتی ہے۔ پس وہ زبانی باتوں سے خوش نہیں ہوتا۔ زبان سے کلمہ پڑھنا یا استغفار کرنا انسان کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ۔ جب وہ دل وجان سے کلمہ یا استغفار نہ پڑھے۔ بعض لوگ زبان سے استغفراللہ کرتے جاتے ہیں مگر نہیں سمجھتے کہ اس سے کیا مراد ہے۔ مطلب تو یہ ہے کہ پچھلے گناہوں کی معافی خلوص دل سے چاہی جائے اور آئندہ کے لیے گناہوں سے باز رہنے کا عہد باندھا جائے اور ساتھ ہی اس کے فضل و امداد کی درخواست کی جائے۔ اگر اس حقیقت کے ساتھ استغفار نہیں ہے تو وہ استغفار کسی کام کا نہیں۔ انسان کی خوبی اسی میں ہے کہ وہ عذاب آنے سے پہلے اس کے حضور میں جھک جائے اور اس کا امن مانگتا رہے۔ عذاب آنے پر گڑ گڑانا اور وَقِنَا وَقِنَا پکارنا تو سب قوموں میں یکساں ہے۔ایسے وقت میں جب کہ خدا کا عذاب چاروں طرف سے محاصرہ کئے ہوئے ہو ایک عیسائی ‘ایک آریہ‘ ایک چوہڑا بھی اس وقت پکار اٹھتا ہے کہ الہٰی ہمیں بچائیو۔اگر مومن بھی ایسا کرے تو پھر اس میں اور غیروں میں فرق کیا ہوا۔ مومن کی شان تو یہ ہے کہ وہ عذاب آنے سے قبل خداتعالیٰ کے کلام پر ایمان لا کر خدا تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے۔
اس نکتہ کو خوب یادرکھو کہ مومن وہی ہے جو عذاب آنے سے پہلے کلام الہٰی پر یقین کرکے عذاب کو وارد سمجھے اور اپنے بچائو کے لیے دعا کرے۔ دیکھو ایک آدمی جو توبہ کرتا ہے۔ دعا میں لگا رہتا ہے تووہ صرف اپنے پر نہیں بلکہ اپنے