چندہ ایسے طور سے وصول کرنا چاہئے کہ لوگ جو کچھ طیب خاطر سے دیں وہ قبول کیا جائے کسی قسم کا اصرار نہ ہو ۔ کوئی شخص ایک پیسہ دے خواہ ایک دھیلہ دے اس کو خوشی کے ساتھ قبول کر لینا چاہئے۔ کسرصلیب کی حقیقت:۔ فرمایا:۔ چند روز سے میرے دل میں خیال تھا کہ کسر صلیب سے کیا مراد ہے؟ یہ بات تو صحیح نہیں ہوسکتی کہ مسیح لکڑی یا پتھر کی صلیبیں توڑتا پھرے۔ اس سے کچھ حاصل نہیں۔ بعد سوچنے کے یہی بات دل میں آئی کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ ایک زمانہ ہی ایسا لائے گا کہ اس میں خود بخود آسمان سے ایک ہوا ہی ایسی چلے گی کہ خواہ مخواہ عیسائیت کے بیودہ مذہب سے لوگوں کے دل ٹھنڈے پڑنے لگ جائیں گے ۔ عیسائیت جیسے مذہب کو دنیا سے مٹانا اور چالیس کروڑ آدمی کی اصلاح کرنا یہ واحد جان کا کام نہیں ہوسکتا ۔ جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے دلوں میںایسی تحریک نہ ہو۔ جس سے وہ خود بخود اس مذہب سے بیزار ہوتے چلے جائیں۔ اور اگر غور سے دیکھو تو یہ کاروائی شروع ہوگئی ہے۔ لوگ تربیت یافتہ ہوتے جاتے ہیں اورعقلی اور دماغی قوتیں بڑھتی جاتی ہیں۔ اب ایسی کچھی باتوں کو کون مان سکتا ہے۔ اگر تھوڑا بہت کچھ ایمان ہے تو عورتوں میں ہے اور بس۔ پرچوں کا تبادلہ جاری رکھنا چاہیئے:۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کے پرچہ اہل حدیث کے تبادلہ میں یہاں سے میگزین اردو جاتا تھا۔ مینجر ریویو نے بدیں خیال کہ یہاں اہل حدیث اور دفتروں میں آتا رہتا ہے ضروری نہ سمجھا کہ اس کے ساتھ تبادلہ وہ بھی جاری رکھیں اس واسطے بندکردیا تھا جس پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت کے نام ایک کارڈ لکھا کہ کیا یہ تجویز آپ کی منظوری سے ہوئی ہے اس پر حضرت نے دریافت کیا کہ تبادلہ کیوں بند کیا گیا ہے؟ اور پھر فرمایاکہ:۔ تبادلہ جاری رکھنے میں یہ فائدہ ہے کہ مولوی صاحب پر اتمام حجت ہوتا رہے گا اور شاید کوئی بندہ خدا ان کے دفتر میں اس کو پڑھ کر اس سے مستفید ہوجائے۱؎۔