یاتوں لوڑ مقد میں یا اللہ نوں لوڑ یعنی یا تو انسان خدا تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہو یا دنیاوی دھندے مثلاً مقدمہ بازی وغیرہ میں لگے۔ ایک طرف کا ہی کام ہو سکتاہے۔ دو طرفہ چلنا مشکل ہے۔ سلسلہ کے کارکنان کی صفات: ۔ اس امر کا ذکر تھا کہ سلسلہ حقہ کے واسطے واعظ مقرر کئے جاویں جو مختلف شہروں اور گائوں میں جاکر وعظ بھی کریں اسلام کے واسطے چندے بھی جمع کریں۔ حضرت نے فرمایاکہ :۔ جب تک کسی میں تین صفتیں نہ ہوں وہ اس لائق نہیں ہوتاہے کہ اس کے سپرد کوئی کام کیا جائے۔ اور وہ صفتیں یہ ہیں ۔ دیانت ۔ محنت ۔ علم ۔ جب کہ یہ تینوں صفتیں موجود نہ ہوں۔ تب تک انسان کسی کام کے لائق نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص دیانتدار اور محنتی بھی ہو لیکن جس کام میں اس کو لگایا گیا ہے ۔ اس فن کے مطابق علم اور ہنر نہیں رکھتا۔ تو وہ اپنے کام کو کس طرح سے پورا کر سکے گا۔ اور اگر علم رکھتاہے ، محنت بھی کرتاہے دیانتدار نہیں تو ایسا آدمی بھی رکھنے کے لائق نہیں۔ اور اگر علم و ہنر بھی رکھتا ہے ۔ اپنے کام میں خوب لائق ہے اور دیانت دار بھی ہے مگر محنت نہیں کرتا تو اس کا کام بھی ہمیشہ خراب رہے گا۔ غرض ہر سہ صفات کا ہونا ضروری ہے۔ فرمایا:۔ کارکن آدمی ہر جگہ جماعت کے اندر مل سکتے ہیں ایسے لوگوں کو ذاتی اخراجات کے واسطے جو کچھ دیا جاوے وہ بھی ناگوار نہیں گذرتا خواہ وہ معمولی واعظ کی تنخواہ سے زیادہ ہو کیونکہ کارکن کو جو کچھ دیا جائے وہ ٹھکانے پر لگتا ہے اس میں کوئی اسراف نہیں۔ سیکھوانی برادران :۔ سیکھوانی برادران میاں جمال الدین ، میاں امام الدین ، میاں خیرالدین صاحبان کا ایک دوست نے ذکر کیا کہ وہ بھی اس کام کے واسطے رکھے جاتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا:۔ بے شک وہ بہت موزوں ہیں۔ مخلص آدمی ہیں۔ ہمیشہ اپنی طاقت سے بڑھ کر خدمت کرتے ہیں۔ تینوں بھائی ایک ہی صفت کے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کون ان میں سے دوسروں سے بڑھ کر ہے۔ محصلین کے لیے ہدایت :۔ فرمایا:۔ بیرون جات میں جو لوگ چندہ لینے کے واسطے بھیجے جاویں اُن کو سمجھا دیں کہ