جو کہتے ہیں کہ گوشت حرام ہے۔ طبیب اور ڈاکٹر لوگ جانتے ہیں کہ انسان کے واسطے گوشت کی خوراک کیسی مفید ہے ۔ کس قدر انسانی ضرورتیں ہیں جو مثل گوشت کے ہیں۔ اگر جانوروں پر رحم کے یہ معنی ہیں کہ گوشت حرام کیا جاوے تو پھر تو بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کو حرام کرنا پڑے گا۔ اول تو دودھ کو ہی حرام کرنا چاہیئے کیونکہ یہ جانوروں کے بچوں کی خوراک ہے۔ پھر ریشم کو لو جو کیڑوں کو مارنے سے نکلتا ہے ۔ پھر شہد کو دیکھو جو ہزارہا مکھیوں سے چھین کر انسان اپنے منہ میں ڈال لیتاہے۔ حالانکہ مکھی ایک غریب اور چھوٹا سا جانور ہے۔ پھر کستوری کو دیکھو جو آریوں اور ہندوئوں کی عبادت میں مانند شہد کے استعمال ہوتی ہے وہ ایک ہرن کو مار کر اس کی ناف میں سے نکالی جاتی ہے ۔ پھر موتی کو لو جن کے تاجر سب ہندوہی چلے آتے ہیں۔ وہ بھی جانور کو مار کر اس کے پیٹ میں سے نکالا جاتاہے ۔ پھر انسان اپنے پائوں کی جُوتی کو ہی دیکھے کہ وہ کس سے بنتی ہے ۔ غرض کس کس چیز کو دیکھا جائے۔ کیا لباس ِانسانی ، کیا خوراک انسانی ، کیا دیگر ضروریات سب میں اس قسم کی اشیاء ہیں جو کسی جاندار کے مارنے سے ہی حاصل ہوسکتی ہیں بعض انسانوں کو ایسی بیماری ہوتی ہے کہ اُن کے ناک میں کیڑے پڑ جاتے ہیں لاجرم ان کیڑوں کو مارنا پڑتاہے۔ بعض آدمیوں کے زخموں میں کیڑے پڑ جاتے ہیں تو زخم کے اندر ایسی دوائی ڈالی جاتی ہے جس سے وہ کیڑے مر جاویں۔ ایام وبا میں جب کنوئیں کے پانی میں کیڑے ہو جاتے ہیں تو کنوئیں کے اندر دوائی ڈال دی جاتی ہے تاکہ وہ کیڑے مرجاویں۔ کس کس شئے کا ذکر کیا جائے ہندوئوں کے بڑے بڑے بزرگ راجہ رام چند ر وغیرہ سب شکار کھیلتے تھے ۔ خدا تعالیٰ کے قانون کی رعایت رکھ کر دیکھنا چاہئے کہ آیا بغیر اس کے انسان کا گذارہ چل سکتا ہے ؟ ایمان میں عورتوں کی مسابقت:۔ فرمایا: بہت عورتیں گھر میں آکر بیعت کرتی ہیں۔ ان کے نام مبائعین کے درمیان لکھنے کا تاحال کوئی انتظام نہیں ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض عورتیں بسبب اپنی قوتِ ایمانی کے مردوں سے بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔ فضیلت کے متعلق مردوں کا ٹھیکہ نہیں ۔ جس میں ایمان زیادہ ہوا وہ بڑھ گیا۔ خواہ مرد ہو خواہ عورت ہو۔ خدا تعالیٰ کو مقدم رکھیں:۔ ایک دوست جو باوجود ایک لمبی رُخصت لینے کے قادیان نہ آسکے تھے کیونکہ وہ ایک عمارت بنوا رہے ہیں۔ ایک دو روز کے واسطے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کسی نے عرض کی کہ ان کی رخصت لمبی ہے ان کو قادیان رہنا چاہئے ۔ فرمایا:۔ ایک پنجابی ضرب المثل ہے کہ ۔