ہوتے ہیں وہ بسبب کمزوری کے کچھ نہ کچھ خرابی اپنے اندر رکھتے ہیں اور ان کے دین میں کوئی حصہ دنیوی ملونی کا بھی ہوتاہے ۔ اگر انسان اپنے سارے امو رمیں صاف ہو اور ہر بات میں پوری طرح تزکیہ نفس رکھتا ہو وہ ایک قطب اور غوث بن جاتاہے ۔ آپ نے ایک مشہور مولوی کا نام لیا اور فرمایا کہ :۔ وہ ایک رسالہ ماہواری نکلتا تھا ۔ ایک دفعہ ہم نے اس سے دریافت کیا کہ کیا یہ خدمت رسالہ کی خالصۃً اللہ کے واسطے ہے یا اس میں کچھ ملونی دُنیا کی بھی ہے؟ ان دنوں میں اس کے دل کی حالت کچھ اچھی تھی۔ اس نے صفائی سے کہہ دیا کہ یہ خالص اللہ کے لیے نہیں ہے بلکہ اس میں دُنیا کی ملونی بھی ہے ۔ اگر کوئی فعل انسان خاص خدا کے لیے کرے تو وہ انسان کو یکدفعہ آسمان پر لے جاتاہے ۔ براہین کا اشتہار صدقِ نیت سے تھا:فرمایا:۔ جبکہ ہم نے براہین کا اشتہار دیا کہ اگر کوئی ان دلائل کو توڑے تو اس کو ہم دس ہزار روپیہ دیں گے تو یہ اشتہار صدقِ نیت سے تھا۔ ہم نے اتنا ہی روپیہ لکھا تھا جتنا کہ ہم دے سکتے تھے اور یہی اس وقت ہمارے پاس جمع ہو سکتاتھا۔ صرف سلام کی محبت کے واسطے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے کی خاطر ہم نے ایسی کتاب لکھی اور اس کے ساتھ اتنا اشتہار دیا ورنہ ہم کو ہر گز وہم و گمان بھی نہ تھا کہ ہم اس کے ذریعہ سے کوئی روپیہ کمائیں اور کسی قسم کی دنیوی ملونی اس میں نہ تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیں دس ہزار چھوڑ کر ایک روپیہ بھی نہ دینا پڑا بلکہ کئی دس ہزار روپیہ اس کے بعد ہمارے پا س آیا۔ یہ خلوصِ نیت کا نتیجہ تھا۔ مثالی طبیب :۔ ایک بیمار جو کہ باہر سے حضرت مولوی نورالدین صاحب کے پاس معالجہ کے واسطے آیا تھا۔ حضرت کی خدمت میں بھی سلام کے واسطے حاضر ہوا۔ حضرت نے اثنائے گفتگو میں فرمایا کہ :۔ مولوی صاحب کا وجود از بس غنیمت ہے ۔ آپ کی تشخیص بہت اعلیٰ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بیمار کے واسطے دُعا بھی کرتے ہیں۔ ایسے طبیب ہر جگہ کہاں مل سکتے ہیں؟ گوشت خوری کا جواز:۔ مذکورہ بالا بیمار ہندو تھا۔ حضرت نے اس سے دریافت کیا کہ :۔ آپ لوگ گوشت کھایا کرتے ہیں؟ اس نے عرض کی کہ ہاں میں کھایا کرتاہوں۔ حضرت نے فرمایا کہ :۔ ایسی بیماریوں میں قوت کے قائم رکھنے کے واسطے گوشت کی یخنی مفید ہوتی ہے اور وہ لوگ بے وقوف ہیں