بھڑکانے سے او ربھی تکلیف دینے پر آمادہ ہو جائیں گے اس لیے گورنمنٹ کو حفاظت کا پورا انتظام کرنا چاہئے۔ ایسے موقعہ پر کافی اور مسلح پہرہ اگر ہو تو خطرہ دور ہو سکتا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہو تو پھر طاعون نے نہ مارا تو ڈاکوئوں نے مار دیا۔ ۱؎ ۱۳؍اگست ۱۹۰۷ئ؁ ادائیگی قرض کی اہمیت :۔ ایک شخص کا ذکر ہو ا کہ وہ ایک دوسرے شخص کی امانت جو اس کے پاس جمع تھی لے کر کہیں چلا گیا ہے ۔ فرمایا:۔ ادائے قرضہ اور امانت کی واپسی میں بہت کم لوگ صادق نکلتے ہیں اور لوگ اس کی پروا نہیں کرتے حالانکہ یہ نہایت ضروری امر ہے ۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کا جنازہ نہیں پڑھتے تھے جس پر قرضہ ہوتاتھا۔ دیکھا جاتاہے کہ جس التجا اور خلوص کے ساتھ لوگ قرض لیتے ہیں۔ اسی طرح خندہ پیشانی کے ساتھ واپس نہیں کرتے بلکہ واپسی کے وقت ضرور کچھ نہ کچھ تنگی ترشی واقع ہو جاتی ہے۔ ایمان کی سچائی اسی سے پہچانی جاتی ہے۔ ۲؎ ۲۳؍اگست ۱۹۰۷ئ؁ (بوقت عصر) ڈاکٹر عبدالحکیم کا دعویٰ مسیحیت :۔ ڈاکٹر عبدا لحکیم خاں مرتد کی مسیحیت کا ذکر تھا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔ ہمارا نام وہ دجال رکھتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ بیس برس تک دجال ہی کا مصداق رہا ہے اور اسی کا ماتحت رہاہے۔ بھلاکوئی دنیا میں ایسا بھی مسیح گذرا ہے جو بیس سال تک دجال کے ماتحت رہاہو۔ ایک ہندو نے عبدالحکیم کی نسبت لکھا ہے کہ جن کی وہ بیعت ہے ان کی زبان سے تو کوئی گندہ لفظ تک نہیں نکلا مگر یہ بڑا کمبخت ہے کہ جس میں بیس برس تک بیعت میں رہا ہے اس کو گالی نکالتا ہے ۔ حضرت اقدس نے فرمایاکہ :۔