اس کے یہی معنی ہیں کہ طاعون آخری زمانہ میں تمام جہان میں دورہ کرے گی۔ اور حدیث شریف میں لکھا ہے کہ اگر کسی گھر میں دس آدمی ہوں گے تو سات مر جائیں گے اور تین بچے رہیں گے اور یہ مہدی کی علامات میں سے ہے کہ اس کی مخالفت سے سخت طاعون پڑے گی۔
عجیب بات ہے کہ خسوف کسوف کے رمضان میں واقع ہونے کی نسبت لکھا ہے کہ جب سے دُنیا پید اہوئی ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہ ایک خارق ِ عادت امر ہے پھر یہ زلزلے اور طاعون بھی خارق عادت امور ہیں۔ مگر یہ نہیں سوچتے اور نشان پر نشان مانگتے ہیں ۔ یہ اُن کے لئے اچھے تو نہیں ہوں گے ۔ خدا تعالیٰ فرماتاہے کہ نشان جب آئیں گے تو پھر اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا۔
(پھر لیکھرام کے نشان کا ذکر فرماتے رہے)
حکومت سے تعاون :۔
قیصر کی چٹھی متعلقہ طاعون کا ذکر کرکے حضور نے فرمایا:
ہم نے ایک اعلان کے ذریعہ لکھ دیا ہے کہ ایسے امور میں گورنمنٹ کو ہر قسم کی مدد دینے کو تیار ہیں۔ ہم اپنی جماعت کو بھی یہی تاکید کریں گے کہ وہ خاص احتیاط کرے اور گورنمنٹ کی ہدایت کے بموجب جب ضرورت پڑے باہر کھلے میدانوں اور کھلی ہوا میں چلی جاوے۔ ہماری تمام جماعت ایسے امو رمیں گورنمنٹ کو خاص امداد دے گی کیونکہ وہ گورنمنٹ کی خیر خواہی کو مذہبی فرض سمجھتی ہے۔
اپنی حفاظت کے لئے حکومت کو توجہ دلائی جائے:۔
ایک معزز خادم نے عرض کی کہ پشاور جیسے سرحدی مقام پر کیا کیا جاوے کیونکہ وہاں تو لوگ قتل سے نہیں ڈرتے ۔ وہ انجام کو نہیں سوچتے ۔ ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر قتل ہو جاتے ہیں ایک شخص نے ڈیڑھ روپیہ قرضہ دینا تھا۔ اس پر یہاں تک نوبت پہنچی کہ تین آدمی قتل ہوگئے اور قاتل علاقہ غیر میں بھاگ گئے۔
ان باتوں کو سن کر فرمایا:۔
ایسے مقامات پر گورنمنٹ کو توجہ دلائی جاوے تو وہ ہماری جماعت کی طرف خاص توجہ کرے گی اور حفاظت کے سامان بہم پہنچاوے گی۔ کیونکہ یہ بالکل سچ ہے کہ بعض اضلاع میں لوگ ڈاکہ کے عادی ہیں اور ہماری جماعت سے بھی خاص دشمنی رکھتے ہیں اس لئے خاص طور پر گورنمنٹ کو حفاظت کا انتظام کرنا چاہئے ۔ ہم گورنمنٹ کی ہدایتوں پر عمل کرنے کو تیار ہیں مگر ایسے خطر ناک مقامات کے لیے ہم یہ ضرور کہیں گے کہ چونکہ ڈاکو لو گ مولویوں کے