اولاد کیلئے باپ کی دُعا:۔ فرمایا: باپ کی دُعا اپنی اولاد کے لیے منظور ہوتی ہے۔ سید کے لئے زکوٰۃ :۔ سوال ہو اکہ غریب سید ہو تو کیا وہ زکوٰۃ لینے کا مستحق ہوتاہے ؟ فرمایا:۔ اصل میں منع ہے۔ اگر اضطراری حالت ہو۔ فاقہ پر فاقہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں جائز ہے ۔ اِلَّا مَا اضْطُرِرْ تُمْ اِلَیْہِ ( الانعام : ۱۲۰) حدیث سے فتویٰ تویہ ہے کہ نہ دینی چاہیئے اگر سید کو اور قسم کا رزق آتا ہو تو اُسے زکوٰۃ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ہاں اگر اضطراری حالت ہوتو اور بات ہے۔ ۱؎ ۲۱؍اگست ۱۹۰۷ئ؁ (بوقت ظہر) طاعون کا نشان :فرمایا:۔ امریکہ کے ایک بڑے حصہ میں بڑی تیزی سے طاعون شروع ہوگئی ہے ۔ ایسا ہی یورپ کے بعض حصوں کی نسبت بھی لکھا ہے ۔ اصل میں یہ دونو ملک آپس میں بہت آمدو رفت رکھتے ہیں۔ ایک ہی طرح کا لباس ہے۔ ایک ہی بولی ہے اور تقریباً ایک ہی طرح کی سردی ہے ۔ اخبار والوں نے بڑا خطرہ ظاہر کیا ہے کہ چونکہ یہ ملک سرد ہے اس لئے اندیشہ ہے کہ یہ بیماری زیادہ تباہی لاوے۔ ہماری پیشگوئی میں یورپ بھی ہے اور کابل بھی ہے ۔ سُنا گیا ہے کہ کابل میں ہیضہ ہے ۔ مگر اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ کوئی عذاب نہیں ہے۔ پوری خبر تو طاعون ہی لیتی ہے ۔ دیکھو ابھی اس بیماری کا نام و نشان بھی نہ تھا تو میں نے اشتہار شائع کرا دیا تھا کہ پنجاب میں طاعون کے پودے لگائے گئے ہیں۔ ثناء اللہ کو بھی یہ اشتہار پہنچ گیا تھا۔ تاریخ کو دیکھ لو۔ ایک طرف طاعون کی آمد کی تاریخ اور دوسری طرف اشتہار کے طبع ہونے کی تاریخ موجود ہے۔ اب گیارہ سال سے تباہی شروع ہے ۔ کیا یہ انسانی کوشش اور طاقت کا کام ہے کہ اتنے بڑے واقعہ کی قبل از وقت خبر دیدے اب یورپ ۔ کابل وغیرہ کی باری آئی ہے مگر پھرے گی سارے جہان میں اللہ کریم فرماتاہے ۔ وَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُھْلِکُوْ ھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اَوْ مُعَذِّبُوْھَا عَذَاباً شَدِیْدًا ( بنی اسرائیل :۵۹)