سے اس طرف نکل جاتے تھے اوراس طرف سے اس طرف نکل جاتے تھے۔ میرے خیال میں تو کسوف خسوف کا بھی خاص اثر زمین پر ہوتا ہے۔دمدار ستارے کا پیداہونا ایک خارق عادت امر ہے۔ آسمان پر اس کا ظاہر ہونا ظاہر کرتا ہے کہ زمین پر بھی ضرور کوئی خارق عادت امر ظاہر ہوگا۔ یہ زمین کے لیے شہادتیں ہوتی ہیں۔ آئندہ زمین پر جو خارق عادت نشان ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں ان کے لیے یہ پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ اس طرف ہمیں الہام بھی ہو رہے ہیں کہ آئندہ خارقِ عادت نشان ظاہر ہونے والے ہیں اور کل جو میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک ستارہ ٹوٹا ہے اور سر پر آگیا ہے ۔ میں نے خیال کیا تھا کہ ضرور اس کی کوئی تعبیر ہوگی۔ ذوالسنین ستارہ کی نسبت جب نکلا تھا تو انگریزی اخباروالوں نے لکھا تھا کہ یہ وہی ستارہ ہے جو حضرت عیسیٰؑ کے زمانہ میں طلوع ہوا تھا۔ فرمایا:۔ بعض منذر الہام اور خواب ہوتے ہیں۔ اُن سے ڈرہی لگ جاتاہے۔ اپنے محبیّن کیلئے دُعا:۔ فرمایا کہ :۔ مولوی صاحب ۱؎ کے واسطے دُعا کرتے کرتے یہاں تک اثر ہوا کہ ہمیں خود بھی دست لگ گئے۔ ۲؎ ۲۰؍اگست ۱۹۰۷ئ؁ (بوقت ظہر) امانت داری :۔ مفتی محمد صادق صاحب نے عرض کیا کہ ایک شخص نے لکھا ہے کہ میں نے حضور کی خدمت میں دو روپیہ نقد اور ایک طلائی ڈنڈی بھیجی ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ :۔ ہاں پہنچ گئی ہے اور روپے بھی مل گئے ہیں مگر ہم نے توامانتاً رکھد ی ہے کیونکہ معلوم نہیں اس نے کس لیے بھیجی ہے کچھ لکھا نہیں۔ اس پر مفتی صاحب نے عرض کیا کہ اس نے لکھا ہے جہاں حضرت پسند فرمائیں خرچ کر لیں۔