کی خدمت میں بھی التجا کی ہوئی تھی۔
اس پر حضرت نے فرمایا:۔
خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے ۔ یہ مرض جنون کی نہایت خطر ناک ہے۔
حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ حضور انبیاء نے بھی یہ دعا مانگی ہے کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعَوْذُبِکَ مِنَ الْبَرْ صِ وَالْجُذَامِ وَالْجُنُوْنِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
بوقت عصر
طاعون :۔
موسمی تغیر وتبدل پر گفتگو ہورہی تھی۔ باتوں ہی باتوں میں طاعون کاذکر چل پڑا۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔
ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ اب کی دفعہ طاعون بہت کم پڑے گی کیوں کہ زور بہت ہوگیا ہے اور چوہے بھی بہت مارے گئے ہیں۔ ان کی ایسی رایوں سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا جس کی نسبت قرآن مجید میں لکھا ہے وَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُھْلِکُوْ ھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اَوْ مُعَذِّبُوْھَا عَذَاباً شَدِیْداً (بنی اسرائیل :۵۹) مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَابِاَنْفُسِھِمْ (الرعد:۱۲) معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس جگہ ڈاکٹروں اور مدبروں کو ہرادے ۔
دمدار ستارہ کا طلوع:۔
آج کل دمدار ستارہ طلوع ہوتا ہے۔اس کے متعلق ایک شخص سے حضرت اقدس نے دریافت فرمایا کہ:۔
کیا آپ نے بھی دمدار ستارے دیکھے ہیں اس نے عرض کیا کہ حضور نے فرمایا کہ:۔
ضروردیکھنا ۔ آج ہی دیکھنا وہ ایک نہیں ہے دو ہیں۔ میں نے بھی دیکھے تھے۔ ایک چھوٹا ہے اور ایک بڑا ہے تین بجے سے دکھائی دینا شروع ہوتا ہے۔ مفسروں نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں جب بہت ستارے ٹوٹے تھے تو اس سے کچھ عرصہ بعد آنحضرت ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ جو ستارے وغیرہ ہوتے ہیں ان کا اثر زمین پر ضرور ہوتا ہے ۔ میرے دعویٰ سے پہلے اس قدر ستارے ٹوٹے تھے کہ ایسی کثرت آگے کبھی نہیں ہوتی تھی۔ میں اس وقت دیکھ رہاتھا کہ ستاروں کی آپس میں ایک قسم کی لڑائی ہوتی تھی۔ کوئی سو دو سو ایک طرف تھے اور سودو سو ایک طرف تھے۔ ہمارے لیے گویا وہ ایک پیش خیمہ تھے ۔اس طرف