۱۹؍ اگست۱۹۰۷ئ
(بوقت ظہر)
الہام
’’آیدآں روزے کہ مستخلص شود‘‘
طبابت ایک ظنی علم ہے:۔
طبیبوں کے علاج اور بعض بیماریوں کا ذکر ہو رہاتھا۔
اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔
اکثر طبیبو ں کا یہ کام ہے کہ جب انہیں مایوسی کے آثار نظر آنے لگتے ہے اور بظاہر نظر کامیابی کی راہیں مسدود نظر آتی ہیں تو کہدیا کرتے ہیں کہ یہ خاص خاص شبہات پیدا ہوگئے تھے ورنہ یہ ہوتا تو ٹھیک تھا۔ یہ بات نہیں ہوسکی وہ نہیں ہوسکی۔ایسا کرنا چاہیئے تھا ویسا کرنا چاہیئے تھا مگر یہ سب باتیں توحید کے برخلاف ہیں۔ اگر طبیب سے غلطی ہوگئی ہے یا کامیابی نہیں ہوسکی تو پھر کیا ہوا۔ اس کا کام تو صرف ہمدردی کرنا تھا تقدیر کا مقابلہ نہ کرنا تھا۔
ایک طبیب کاذکر ہے کہ وہ قبرستان کو جاتے وقت برقع پہن لیا کرتے تھے کسی نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ طبیب نے جواب دیا کہ یہ سب آدمی میری دوائیوں سے ہی ہلاک ہوئے تھے۔
سنت اللہ اسی طرح سے ہے کہ کام تو وہ خود کرتا ہے مگر اپنی حکمت سے اسباب کا ایک سلسلہ بھی قائم کردیا ہوا ہے ۔پنجابی میں ایک مثل ہے کہ ’’مارے آپ تے نام دھرایاتاپ‘‘ عجیب بات ہے کہ کل بگڑتی کی بگڑتی چلی جاتی ہے کچھ پتہ نہیں لگتا کہ ہوتا کیا ہے۔ کوئی دعویٰ کرنے کا امکان نہیں ۔دیکھو جہاں پیچ پڑنا ہوتا ہے وہاں بے اختیار خود بخود صورت بگڑتی جاتی ہے۔ ایک مرض کا علاج کرو تو ساتھ ہی قے کے ذریعہ سے یا کسی اور وجہ سے کئی مرضیں اور پیدا ہوجاتی ہیں۔ مگر جہاں آرام آنا ہوتا ہے تو صرف عورتوں کے سونف اجوائن بتانے سے بھی آرام ہوجاتا ہے اور خود بخود سب علاج کرلیتی ہیں۔ طبابت ایک ظنی علم ہے۔ دعویٰ کا کوئی امکان نہیں۔ جب بیماری بڑھنی ہو تو علاج کرتے کرتے بھی بڑھتی جاتی ہے۔ مرنا برحق ہے اور ایک دن موت ضرور آکر رہے گی حدیث شریف میں آیا ہے کہ خوش قسمت انسان وہ ہے جو نیک اعمال کرکے مرے۔ عمر کا کیا ہے۔ ساٹھ برس جئیں خواہ سو برس‘آخر موت برحق ہے۔
جنون کا مرض :۔
حضرت حکیم الامت نے ایک خط پڑھ کر سنایا جس میں ایک شخص کی بیماری کی نسبت بعض باتیں درج تھیں اور دعا کے لیے حضرت اقدس