اور کانوں پر ہاتھ رکھ کردجال کہنے سے رجوع کیاتھا۔
لیکھرام کی پیشگوئی:۔
لیکھرام کی نسبت چھ برس کی پیشگوئی تھی۔ پانچ برس اس نے شوخی سے گذارے اور میری نسبت پیشگوئی بھی کہ کہ تم تین سال کے اندر ہیضہ سے مرجائو گے ۔ چونکہ اس نے بہت شوخی کی تھی اس لیے وہ مہلت بھی اس کے لیے کم دی گئی اور پانچ برس کے اندر ہی ہلاک ہوگیا اور یہ ایک جلالی رنگ کی پیشگوئی تھی مگرآتھم نے چونکہ انکساری اختیار کی تھی اس لیے خوف اوررجوع کے سبب اس کی میعاد بڑھ گئی۔ اور یہ ایک جمالی رنگ کی پیشگوئی تھی۔
ڈاکٹر عبدالحکیم کی بے باکی:۔
عبدالحکیم کی شوخی اور بے باکی پر حضرت نے فرمایا کہ:۔
ہزاروں لوگ خود پسندی اور رعونت کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ تو بہت ہی دلیر ہوگیا ہے اور حد سے بڑھ گیا ہے۔ جتنی گالیاں انسان سوچ سکتا ہے وہ سب اس نے ہمیں دی ہیں۔ اس کے روبرو بڑے بڑے نشانات خداتعالیٰ نے دکھائے۔اس نے خود بھی تصدیق کی بیس برس تک یہ ہمارا مصدق رہا۔اس کے خطوط میرے پاس موجود ہیں۔ یہ کہتا تھا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی اتباع کے بغیر نجات ہوسکتی ہے ۔ ہم نے اسے نصیحت کی اور اس کی غلطی سے اسے متنبہ کیا۔ مگراس نے برا منایا۔ آخراس کا یہ مرض بڑھتا گیا اور تکبر پیدا ہوتا گیا ۔شیطان بھی تو تکبر کی وجہ سے ہی ہلاک کیاگیا تھا۔ اس کو چاہیئے تھا کہ جب ہم نے روکا تھا تو خود قادیان میں آجاتا۔ ہماری صحبت سے فائدہ اٹھاتا اور اپنے وساوس کو انکساری سے پیش کرتا ۔ایسے گند نبیوں کے ذریعہ سے ہی دور ہوسکتے ہیں۔ مگر وہ کہتا ہے کہ نبیوں کی اتباع کی ضرورت نہیں خاکساری کے ساتھ آتا ۔ ہم دعا بھی کرتے اور اس کے وساوس کا جواب بھی د ے دیتے۔ اس نے اپنا ایک خواب کے دل میں واقعی اعتراض تھے تو اس کو خود الگ ہونا چاہیئے تھا نہ کہ ہم خود کاٹتے۔ اگر وہ ہمارے سلسلہ کو برا سمجھ کو چھوڑ دیتا۔ پھر تو ایک بات تھی مگر ہم نے اس کو خود جماعت سے کاٹ دیا ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں مانتا ہے کہ انہوں نے خود میرا نام بیعت سے کاٹ دیا۱؎۔