میں آئیں گے اور جیسے تسبیح کا دھاگا توڑدیا جاوے تو دانے پردانہ گرتا ہے ویسے ہی نشان پر نشان ظاہر ہوگا۔ یہ عجیب بات ہے کہ کوئی سال اب خالی نہیں جاتا ۔ دو چار مہینہ میں کوئی نہ کوئی نشان ضرور واقع ہوجاتا ہے۔ تمام نبیوں نے اس بات کو مان لیا ہے کہ جس زور سے آخری زمانہ میں نشانات کا نزول ہوگا اس سے پہلے ویسا کبھی نہیں ہوا ہوگا۔
مخالفت ہمارے لیے مفید ہے:۔
فرمایا:۔
مخالفوں کا انکار ہمارے واسطے بہتر ہے کیوں کہ جتنی گرمی زور سے پڑتی ہے اتنی ہی بارش زور سے ہوتی ہے ۔ جس قدر مخالفوں میں تپش بڑھتی جائے گی اتنے ہی نشانات بارش کی طرح برستے جائیں گے۲؎۔
۱۸؍اگست ۱۹۰۷ئ
(بوقت عصر)
مخالف ہمیں منہاج نبوت پر پرکھیں:۔
کسی شخص کے ذکر پر فرمایا کہ :۔
مجوسیوں ‘یہودیوں اور نصرانیوں نے یہی تو ہمارے نبی کریم ﷺ پر اعتراض کئے تھے۔ جس طرح لوگ انبیاء پر اعتراض کرتے رہے ہیں اور خداتعالیٰ آخر ان کے جواب دیتا رہا ہے اسی طرح کے جواب ہم سے بھی لو ۔ ان کو چاہیئے کہ ہم پر کوئی ایسا اعتراض کریں جو کسی پہلے نبی پر نہ ہو سکتا ہے ۔ چاہیئے کہ منہاج نبوت پر ہمیں پرکھ لیں۔
آتھم کی پیشگوئی:۔
آتھم کی نسبت اعتراض کرتے ہیں۔ مگر ان کا خیال کرنا چاہیئے کہ جب اسے کہا گیاتھا کہ چونکہ تم نے ہمارے نبی کریم ﷺ کو دجال کہا ہے اس لیے تمہاری نسبت یہ پیشگوئی کی گئی ہے۔ تو یہ بات سن کر اس نے سرہلایا اور کہا کہ نہیں جی‘نہیں جی۔ میں نے تو نہیں کہا اور زبان نکالی اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر بڑا انکار کیا۔ اور اکثر روتا رہتا تھا اورادھر ادھر اس طرح پھرتا رہتا تھا جیسے کسی کو قطرب کی بیماری ہوجاتی ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ مخالف کی بات کا اس قدر اثر پڑجانا کہ اکثر اوقات روتے رہنا کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس نے رجوع کیاتھا۔ ساٹھ ستر آدمیوں کے سامنے اس نے زبان نکالی