ہیں کسی کی نظیر تو پیش کریں اور نشان جانے دو۔ ان سے کوئی پوچھے کہ چھبیس ستائیس سال ہمیں دعویٰ کئے گذر گئے اور ہزاروں نشانات ہماری تائید میں ظاہر ہوئے۔ کسی ایسے جھوٹے کی نظیر تو پیش کرو۔ جس نے خدا تعالیٰ پر افتراء کیا ہو اور اتنی مہلت اور نشانات اس کی تائید میں دکھائے گئے ہوں۔ خدا تعالیٰ نے اس کے مخالف ہلاک تباہ اور ذلیل کردئیے ہوں۔ حالانکہ خدا جانتا تھا کہ وہ مفتری ہے۔ بھلا کوئی نظیر تو دو۔سنت اللہ اسی طرح سے ہے کہ جب کوئی خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے تو عبدالحکیم وغیرہ کی طرح بعض لوگ الہام کے دعویدار بن بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بھی رسول ہیں۔ مگر ایسے دعویٰ کرنے والے ہمیشہ بعد میں ہوتے ہیں۔ دیکھو ہمارے نبی کریم ﷺ جب دعویٰ کیا۔ اوراس کی اچھی طرح سے شہرت ہوگئی تب مسیلمہ کذاب وغیرہ نے بھی دعویٰ کردیا۔ ایسا ہی ہمیں بھی چھبیس ستائیس برس دعویٰ کئے گذر گئے تو ان لوگوں کو بھی دعوے یاد آگئے۔
سچے مدعی کی نشانی:۔
مگر یاد رکھو کہ سچے کی نشانی یہ بھی ہے کہ وہ سب سے پہلے دعویٰ کرتا ہے وہ کسی کی ریس نہیں کرتا ۔ ابوسفیان وغیرہ جب کفر کے زمانہ میں قیصر کے پاس گئے تو اس نے ان سے یہی پوچھا تھا کہ محمد(ﷺ) سے پہلے بھی کسی نے دعویٰ کیا ہوا ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ تب اس نے کہا کہ اگر اس سے پہلے کوئی دعویٰ کرنے والا ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ ریس کرتا ہے ابتداء ًدعویٰ کرنا یہ سچے کی شناخت پر ایک بڑی بھاری دلیل ہے۔ دیکھو چھبیس ستائیس برس گذر چکے ہیں۔اس عرصہ میں تو ایک بچہ بھی پیدا ہو کر باپ بن سکتا ہے۱؎۔
۱۷؍اگست ۱۹۰۷ئ
(بوقت عصر)
نئے نشانات کا ظہور:۔
حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ :۔
آج رات کے دو بجے الہام ہوا تھا
اِنَّ خَبْرَ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَاقِعٌ
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی پیشگوئی واقع ہونے والی ہے۔ دو تین ماہ میں کوئی نہ کوئی نشان ظہور میں آجاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے خاتمہ کے دن قریب ہیں کیوں کہ لکھا ہے کہ آخری زمانہ میں نئے نئے نشانات ظہور