نے بہت شور مچایا اور بڑی مخالفت کی۔ مگر جب مسیلمہ کذاب نے دعویٰ کیا تو سب آپس میں مل جل گئے۔ کسی نے مخالفت نہ کی۔ وجہ یہ ہے کہ شیطان جھوٹے کا دشمن نہیں ہوتا۔ سچے کی مخالفت میں سب اپنا زور لگاتاہے۔ دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے بیگانے سب دشمن ہوگئے ۔ کیا عالم اور کیا جاہل سب کے سب مخالفت پر کمربستہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ جن کو دین سے کچھ بھی تعلق نہیں ہوتا وہ بھی دشمن ہوگئے ۔
آج کل بھی یہی حال ہے ۔ ہر ایک نے مخالفت پر کمر باندھی ہوئی ہے ۔ بڑے بڑے جرائم پیشہ اور بدکار لوگ ہماری مخالفت پر کمربستہ ہیں۔ بہت لوگ ایسے ہیں جو دنیا طلبی کی ہی فکر میں ہر وقت لگے رہتے ہیں اور بھولے سے بھی کبھی دین کا نام نہیں لیتے۔ ہروقت زمینداری اور ملازمت میں ہی مست رہتے ہیں اور دین کی ذرہ بھی پروا نہیں کرتے اور مذہب سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے۔ وہ ہماری مخالفت کرتے اور ہمارا نام سنتے ہی آگ بگولا ہوجاتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر تمام دنیا سے بدتر ہوں تو میں ہی ہوں۔ سو ایسے لوگوں کا فیصلہ تواب خدا خود کرے گا۔ ایسوں کو کیا جواب دیا جاوے ان کا فیصلہ تو خدا تعالیٰ کے پاس ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کے بہت گندوں اور شرارتوں کا ذکر نہیں کیاگیا۔ صرف اشارات ہی پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ایسے لوگوں کی بابت لکھا ہے کہ وہ ہمارے نبی ﷺ کے زمانہ میں کہتے تھے کہ جب قرآن پڑھا جاوے تو شور ڈالا کرو اور تالیاں بجایا کرو اور پھر بعض لوگ ایسے بھی تھے جن کی نسبت اللہ کریم فرماتا ہے وَاِذَا لَقُوْاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاِذَا خَلَوْااِلٰی شَیَاطِیْنَھِمْ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِئُ ونَ (البقرہ:۱۵) اور ایسے لوگ بہت پائے جاتے تھے جو دوسروں کو کہتے تھے کہ جھوٹے طورپر بیعت کرآئو اور پھر کہو کہ ہم سب کچھ دیکھ آئے ہیں کوئی بات نہیں وہ تو دکانداری ہے اور پھر مرتد ہوجائو اور پھر ایسے لوگوں کو جو بیعت کرکے پھر جاتے تھے‘پیش کر کے کہتے تھے کہ دیکھو یہ تجربہ کار لوگ ہیں مرتد ہوگئے ہیں۔ یہ محض جھوٹا سلسلہ ہے ایساہی چند آدمیوں نے ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ہے۔ پہلے جھوٹے طور پر یہاں آکر بیعت کی۔ پھر بعدازاں یہاں سے جاکر چھپوا دیا کہ ہم سب کچھ دیکھ آئے ہیں کچھ بھی نہیں۔ ہم بھی مرید ہوئے سب پتہ لیا محض دھوکہ بازی ہے۔ بیوقوف اتنا نہیںجانتے کہ آخر کار کام تو وہی ہو کر رہے گا جو ارادہ الٰہی میں ہے۔ خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ جہاں ہماری مخالفت میں زیادہ شور اٹھا ہے وہاں ہی زیادہ جماعت تیار ہوئی ۔ جہاں مخالفت کم ہے وہاں ہماری جماعت بھی کم ہے۔
ایک شخص نے سلسلہ تقریر میں عرض کی کہ اگر کوئی حقیقۃ الوحی کو خدا کے خوف سے پڑھے تو ضرور مان لیوے۔
حضرت نے فرمایا:۔
خدا تعالیٰ کا خوف ان میں رہا ہی کہاں ہے ۔ خدا تعالیٰ کا ہوتا تو ہماری مخالفت ہی کیوں کرتے۔ خدا تعالیٰ نے اتمام حجت کردی ۔ ہماری تائید میں بڑے بڑے نشان دکھائے گئے۔ مگران لوگوں کا کیا کیا جاوے۔ اتنے نشانات