۱۵؍اگست ۱۹۰۷ئ
(بعد از نماز ظہر)
سچے سلسلہ کی مخالفت اس کی صداقت کا نشان ہے: ۔
ایک شخص نور محمد نامی نے بیعت کے واسطے عرض کی۔ فرمایا:۔
عصر کے وقت کر لینا
عصر کے وقت جب حضرت تشریف لائے تو وہ شخص بیعت کیلئے آگے بڑھا ۔ حضرت نے فرمایا:۔
جس جس نے بیعت کرنی ہے آجائو۔
چونکہ جگہ تنگ اور لوگ زیادہ تھے حضرت نے فرمایا:۔
تم لوگ ایک دوسرے کے پیٹھ پر ہاتھ رکھ دو۔
بیعت کے بعد حضرت نے اس شخص کو مخاطب کرکے فرمایا:۔ کیا آپ ملتان سے آئے ہیں؟
شخص:۔ حضور ملتان سے حضرت :۔ خاص ملتان گھر ہے یا گردونواح میں؟
شخص :۔ حضور امیر پور ایک گائوں تحصیل کبیر والہ میں ہے۔ وہاں بڑے بھاری مخالف ہیں۔
حضرت:۔ اس طرف بھی بارش ہوئی ہے؟ شخص:۔ حضور اس طرف کم بارش ہوئی ہے۔
حضرت :۔ اس طرف بارش ہمیشہ کم ہی ہوا کرتی ہے ۔ اس طرف لوگوں کی صحت تو اچھی ہوگی۔ کوئی بیماری تو نہیں ہوگی۔
شخص :۔ بیماری کم ہی ہے ۔ حضرت :۔ اس طرف تو سلسلہ کی مخالفت کثر ت سے نہیں ؟
شخص :۔ بہت لوگ مخالف ہیں ۔
اس پر حضرت اقدس نے فرمایا:۔
عادت اللہ اسی طرح پر ہے کہ جس سلسلہ کو خداتعالیٰ خود قائم کرتاہے اس کی سب سے زیادہ مخالفت ہوتی ہے جس سلسلہ کی مخالفت نہ ہو یا اگر ہو بھی تو بہت کم ہو وہ سچا سلسلہ نہیں ہوتا۔ سچے سلسلہ کی سچائی کا ایک بڑا نشان یہ بھی ہے کہ اس کی بہت مخالفت ہو۔ دیکھو ۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعویٰ نبوت کیا تو کمبخت مخالفوں